Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - حرام ذرائع سے حاصل کردہ آمدنی کے صدقات کا کیا حکم ہے؟

حرام ذرائع سے حاصل کردہ آمدنی کے صدقات کا کیا حکم ہے؟

موضوع: حرام  |  معاشرتی آداب

سوال پوچھنے والے کا نام: حافظ وسیم طارق       مقام: کراچی

سوال نمبر 3474:
السلام علیکم! میرے پڑوسی حرام کی کمائی کرتے ہیں اور وو خود اسکا اعتراف کرتے ہیں۔ جب وہ قرآن خوانی کرواتے ہیں تو ہمیں‌ بھی بلواتے ہیں اور ہم جاتے بھی ہیں، اسکے بعد وہ کھانے کے لئے نیاز دیتے ہیں۔ کیا وہ نیاز ہمیں کھانا چاہیے یا نہیں؟ ہمارے گھر بھی بھیجتے ہیں تو ہمیں وہ کھانا چاہیے یا پھینک دیں؟ اگر ہم انکے گھر نہ بھی جائیں تو وہ بھیج دیتے ہیں۔ ہمارے گھر کے کچھ افراد کھا لیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ رزق ہےاسے پھینکھنا نہیں چاہیے؟ وضاحت فرما دیں۔ شکریہ

جواب:

جب کوئی شخص خود اعتراف کرے کہ اس کی کمائی حرام ذرائع سے آئی ہے تو ایسے لوگوں سے لین دین کرنا چاہیے اور نہ ہی ان کے پروگرامز میں شرکت کی جانی چاہیے۔ یہ گریز انہیں اس برائی کا احساس اور اس سے نفرت دلانے کے لیے ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں:

الرّجل یطبل السفر اشعث اغبر بمدیده الی السماء یا رب یا رب و مطعمه حرام و مشربه حرام ملبسه حرام و غذی بالحرام فانیٰ یستجاب لذالک

کوئی شخص طویل سفر کے بعد اس حالت میں اپنے ہاتھ بارگاہ خداوندی میں پھیلاتا ہے کہ اس کا جسم اور اس کا لباس غبار آلودہ ہے، اور پکارتا ہے اے میرے رب! میری مدد فرما۔ کیسے اس کی دعا قبول ہو جبکہ اس کا کھانا، پینا اور لباس حرام میں سے ہے؟

مسلم، الصحیح، رقم حدیث: 1015

درج بالا حدیثِ مبارکہ سے صاف واضح ہے کہ حرام کے مرتکب شخص کی عبادات و مجاہدات اور صدقات و خیرات کے علاوہ دعا تک قبول نہیں ہوتی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2015-01-21


Your Comments