Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - درہم سے کم نجاستِ غلیظہ کپڑوں‌ پر لگنے سے نماز کا کیا حکم ہے؟

درہم سے کم نجاستِ غلیظہ کپڑوں‌ پر لگنے سے نماز کا کیا حکم ہے؟

موضوع: طہارت   |  نجاستیں

سوال پوچھنے والے کا نام: عون محمد       مقام: پاکستان

سوال نمبر 3460:
السلام علیکم! کیا ایک درہم سے کم نجاست کپڑوں پے لگی ہو تو نماز پڑھی جاسکتی ہے؟ کیا یہ قرآن یا حدیث سے ثابت ہے، تو وہ حدیث بتا دیں۔ اگر درہم سے کم نجاست لگی ہو اور پسینہ آ جائے اور پسینہ کا حجم درہم سے بڑھ جائے کیا تب بھی نماز جائز ہے؟

جواب:

نجاستِ غلیظہ مثلاً منی، پیشاب یا یاخانہ وغیرہ کپڑے پر لگی ہو تو ایسے کپڑے پہن کر نماز پڑھنے سے متعلق تین (3) احکام ہیں:

  1. اگر نجاست درہم سے زیادہ ہو تو کپڑا دھونا فرض ہے۔
  2. اگر نجاست درہم کے برابر ہو تو کپڑا دھونا واجب ہے۔
  3. اگر نجاست درہم سے کم ہو تو کپڑا دھونا سنت ہے۔

پہلی دونوں صورتوں میں اگر نجاست صاف نہ کی گئی تو نماز نہیں ہوگی۔ تیسری صورت میں نماز ہو جائے گی۔ اگر درہم سے کم ہونے کی صورت میں نماز شروع کی اور کسی وجہ سے دورانِ نماز یہ مقدار بڑھ کر درہم کے برابر یا زیادہ ہوگئی تو نماز نہیں ہوگی۔

بہرحال حالتِ مجبوری میں درہم سے کم نجاست صاف نہ کرنے کی صورت میں نماز تو ہو جائے گی، لیکن طہارت، پاکیزگی اور نفاست کا تقاضا یہ ہے کہ اگر پانی دستیاب ہوتو جس قدر بھی نجاست کپڑوں‌ پر لگی ہو صاف کرلی جائے۔ لوگوں کو درہم سے کم، برابر یا زیادہ کے چکروں میں نہ ہی ڈالا جائے تو بہتر ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2015-01-21


Your Comments