غسل کا مسنون اور مستحب طریقہ کیا ہے؟

سوال نمبر:346
غسل کا مسنون اور مستحب طریقہ کیا ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 26 جنوری 2011ء

زمرہ: غسل   |  طہارت

جواب:

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا حضورِ اکرم صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کرنے کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں:

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو پہلے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر استنجاء کرتے، اس کے بعد مکمل وضو کرتے، پھر پانی لے کر سر پر ڈالتے اور انگلیوں کی مدد سے بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچاتے، پھر جب دیکھتے کہ سر صاف ہو گیا ہے تو تین مرتبہ سر پر پانی ڈالتے، پھر تمام بدن پر پانی ڈالتے اور پھر پاؤں دھو لیتے۔

مسلم، الصحيح، کتاب الحيض، باب صفة غسل الجنابة، 1 : 253، رقم : 316

مندرجہ بالا حدیث مبارکہ کی روشنی میں غسل کا مسنون و مستحب طریقہ یہ ہے :

  1. نیت کرے۔
  2. بسم اللہ سے ابتداء کرے۔
  3. دونوں ہاتھوں کو کلائیوں تک دھوئے۔
  4. استنجاء کرے خواہ نجاست لگی ہو یا نہ لگی ہو۔
  5. پھر وضو کرے جس طرح نماز کے لیے کیا جاتا ہے اگر ایسی جگہ کھڑا ہے۔ جہاں پانی جمع ہو جاتا ہے تو پاؤں کو آخر میں غسل کے بعد دھوئے۔
  6. تین بار سارے جسم پر پانی بہائے۔
  7. پانی بہانے کی ابتداء سر سے کرے۔
  8. اس کے بعد دائیں کندھے کی طرف سے پانی بہائے۔
  9. پھر بائیں کندھے کی طرف پانی بہانے کے بعد پورے بدن پر تین بار پانی ڈالے۔
  10. وضو کرتے وقت اگر پاؤں نہیں دھوئے تھے تو اب دھو لے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟