کیا غیر مسلم کے ہاتھوں‌ پکا ہوا گوشت کھانا جائز ہے؟

سوال نمبر:3455
السلام علیکم! ایک مسلمان کافر کے ہاتھ گوشت منگواتا اور پکواتا ہے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ زید کہتا ہے کہ ناجائز ہے تو اس کا قول صحیح ہے یا نہیں؟

  • سائل: محمد فاروق عطاریمقام: گوپی گنج، یو پی، ہند
  • تاریخ اشاعت: 13 جنوری 2015ء

زمرہ: ذبح کے احکام

جواب:

ایک مسلمان کے لیے غیرمسلم کے ہاتھ سے منگوایا ہوا اور پکویا ہوا گوشت کھانا جائز ہے، بشرطیکہ اس کے ہاتھ میں نجاست وغیرہ نہ لگی ہو۔ اس میں غیرمسلم کتابی (یہودی اور عیسائی) یا غیرکتابی (ہندو، سکھ، بدھ، جین اور دھریے وغیرہ) کا کوئی فرق نہیں۔ البتہ ایسے غیرمسلم جو اہلِ کتاب میں سے نہ ہو اس کے ہاتھ کا ذبیحہ جائز نہیں ہے۔ اگر کسی غیرکتابی نے کوئی حلال جانور بھی ذبح کیا تو اس کا گوشت ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے، حرام ہے۔ کیونکہ غیراہلِ کتاب ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتے اس لیے ان کا ذبیحہ حرام ہے، چاہے اسے کوئی ہندو پکائے یا مسلمان۔ اگر جانور کو مسلمان یا اہلِ کتاب نے ذبح کیا اور ہندو نے پکایا تو پھر کھانا جائز ہے۔ جہاں تک احتیاط اور نظافت کی بات ہے تو ایسے مسلمان سے پکوانا جو پاک صاف رہتا ہو، زیادہ بہتر ہے۔

مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

یہود و نصاری کا ذبیحہ کن شرائط کے ساتھ جائز ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟