Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا ضرورت مند سود پر قرض لے سکتا ہے؟

کیا ضرورت مند سود پر قرض لے سکتا ہے؟

موضوع: سود   |  قرض

سوال پوچھنے والے کا نام: نصیر احمد میر       مقام: کپوارہ، کشمیر

سوال نمبر 3423:
اگر کسی آدمی کے پاس اپنی زمین اور مکان نہ ہو اور اسے یہ ضرورت ہوں کیا وہ بینک سے سود پر قرض لے سکتا ہے؟ نیز اسکے شادی کے لئے بینک سےقرض لے سکتا ہے؟

جواب:

سود پر قرض لینا ہر مسلمان کے لیے حرام ہے خواہ وہ امیر ہو یا غریب، اس کے پاس مکان اور زمین وغیرہ ہو یا نہ ہو۔ شادی یا کسی بھی کام کے لیے سود پر قرض لینا اصلاً حرام ہی ہے۔ شادی کوئی ایسی مجبوری نہیں ہے کہ جس کے لیے قرض لیا جائے اور وہ بھی سود پر۔ شادی سادگی سے بھی کی جا سکتی ہے۔ اگر انتہائی مجبوری اور سخت ضرورت ہے جس کے لیے مطلوب رقم سود پر قرض لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے تو پھر صرف بقدرِ ضرورت لیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ اجازت صرف حالتِ اضطراری کے لیے ہی ہے۔ اسلام نے اگرچہ حالتِ اضطراری میں رخصت کی راہ رکھی ہے، مگر بہتر یہی ہے کہ عزیمت کی راہ اپنائی جائے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2014-12-31


Your Comments