اگر عورت کی دوسری شادی سے پیدا ہونے والی اولاد اس کے سابقہ شوہر کی وراثت سے حصہ طلب کرے، تو کیا حکم ہوگا؟

سوال نمبر:3386
السلام علیکم! میں سوال نمبر 2020 کي وضاحت چاہتا ہوں۔ عرض ہے کہ آپ نے فرمايا کہ پہلے شوہر کی ملکيت ميں دوسرے شوہر کی اُولاد کا حصہ نہيں ہے، لیکن اُن کي والدہ کا حصہ ہوتا ہے۔ اگر عورت فوت ہو جائے، اور پہلے شوہر کي جائیداد میں سے دوسرے شوہر اولاد تقاضا کرے کہ ہماري ماں کا جتنا حصہ پہلے شوہر کي جائیداد سے آتا ہے، ہميں ديا جائے۔ جنابِ مفتی صاحب اس صورت میں مسئلے کا حل کيا ہوگا؟

  • سائل: دلشاد جمالیمقام: پا کستان
  • تاریخ اشاعت: 09 دسمبر 2014ء

زمرہ: تقسیمِ وراثت

جواب:

اسلامی اصولِ وراثت کی رو سے بیوی کو اس کے شوہر کی جائیداد سے چوتھا حصہ ملتا ہے۔ آپ نے جو سوال پوچھا ہے اس کی دو (2) صورتیں بنتی ہیں۔

  1. اگر شوہر کی وفات پر اُس کی وراثت سے بیوی کو حصہ نہیں ملا، تو بیوی کا یہ حق ختم نہیں ہوا۔ وہ یا اس کے ورثاء جب چاہیں اس حصہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ اگر عورت نے دوسری شادی کر لی، تو اس کا خاوند، دوسری شادی سے پیدا ہونے والی اس کی اولاد یا اس کے والدین (اگر زندہ ہیں تو) اس چوتھے حصہ کا حق رکھتے ہیں، اور اس کا تقاضا کر سکتے ہیں۔
  2. دوسری صورت یہ ہے کہ اگر عورت کواس کے سابقہ شوہر کی جائیداد سے چوتھا حصہ مل گیا تھا تو پھر اس کی وفات پر اس کے موجودہ ورثاء ( اس کے بطن سے پیدا ہونے والی اولاد، دوسرا خاوند اور والدین) حصہ پائیں گے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟