معذور کی اقتداء میں‌ صحت مند کی نماز کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:3353
کیا معذور کی اقتداء میں‌ صحت مند کی نماز ہوجاتی ہے؟

  • سائل: آیان ثناءاللہمقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 27 اکتوبر 2014ء

زمرہ: احکامِ طہارت و صلوٰۃ برائے معذور

جواب:

عرضِ مُدعا:

محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے آسلام باد دھرنے میں کرسی پر ہزاروں عقیدت مندوں کی نماز عید الاضحی میں امامت کی۔ ان کو بیٹھنے اور سجدہ کرنے میں تکلیف ہے اس لیے معذور ہونے کی بنا پر وہ اشارہ سے سجدہ کرتے ہیں۔ شرعاً اس کے جواز میں شک نہیں۔ معذور کھڑا نہ ہو سکے تو بیٹھ کر ادا کرے، رکوع سجود میں تکلیف ہو تو سر کے اشارہ سے ادا کرے۔ الغرض، دین میں تنگی نہیں، ہر عبادت میں معذور کو رعایت دی گئی ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

مَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ ط۔

’’(اﷲ نے) تم پر دین میں کچھ تنگی نہیں رکھی‘‘۔

الحج، 22 : 78

اور حدیث مبارک میں ہے کہ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

اِنَّ الدِّینَ یُسْرٌ

’’دین آسان ہے‘‘۔

بخاري، الصحیح، 1: 23، رقم: 39، دار ابن کثیر الیمامة بیروت

ناقص علم قیامت کی نشانی:

عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اﷲِ صلى الله عليه وسلم یَقُولُ إِنَّ اﷲَ لَا یَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا یَنْتَزِعُه مِنْ الْعِبَادِ وَلٰـکِنْ یَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَائِ حَتَّي إِذَا لَمْ یُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُئُوسًا جُهالًا فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَیْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا.

حضرت عبداﷲ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ علم کو بندوں سے کھینچ کر نہیں اٹھائے گا بلکہ علماء کی وفات سے علم ختم کرے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنا لیں گے. ان سے مسائل پوچھے جائیں گے تو علم کے بغیر ہی فتوے دیں گے۔ خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو گمراہ کریں گے۔

  1. بخاري، الصحیح، 1: 50، رقم: 100

  2. مسلم، الصحیح، 4: 2058، رقم: 2673، دار احیاء التراث العربي بیروت

عوام دینی مسائل میں علماء کی طرف رجوع کرتے ہیں، علماء میں سے جو منصب افتاء پر فائز ہیں انہیں سہل پسندی اور سطحی روش کی بجائے پوری محنت ودیانت سے ذمہ دارانہ رہنمائی کرنی چاہئے اگر یہ نہ ہو سکے تو جواب سے معذرت کر لینا بہتر ہے اسی میں دنیوی عزت وبھرم اور اخروی نجات مضمر ہے۔ بعض نام نہاد علماء کے اخباری بیانات اور ناقص تحریرات سے بہت دکھ ہوتا ہے۔ اس سے دین کی توہین اور علماء کی تحقیر ہوئی۔ ہم نے اصل مسئلہ اور اس کی ہر پہلو سے تحقیق وتنقیح کی ہے کسی کی طرفداری یا دل آزاری نہیں، نفس مسئلہ کی تحقیق مقصود ہے۔ اﷲ تعالیٰ ہماری ہدایت فرمائے۔

معذور کے پیچھے تند رست کی نماز:

اللہ تعالیٰ ورسول صلیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کرو!

مَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَامُؤْمِنَة اِذَا قَضَی اﷲُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَهمُ الْخِیَرَة مِنْ اَمْرِهمْ ط وَمَنْ یَّعْصِ اﷲَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰـلًا مُّبِیْنًا

’’نہ کسی مومن مرد کو (یہ) حق حاصل ہے اور نہ کسی مومن عورت کو کہ جب اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کسی کام کا فیصلہ (یا حکم) فرمادیں تو ان کے لیے اپنے (اس) کام میں (کرنے یا نہ کرنے کا) کوئی اختیار ہو، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی نافرمانی کرتا ہے وہ یقینا کھلی گمراہی میں بھٹک گیا‘‘۔

الاحزاب، 33: 34

عَنْ أَبِي هُرَیْرَة، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلى الله عليه وسلم: کَفَی بِالْمَرْئِ کَذِبًا أَنْ یُحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ.

’’حضرت ابو ہریرہ رصی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آدمی کے جھوٹا ہونے کیلئے اتنا کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات سنا تا چلا جائے‘‘۔

  1. مسلم، الصحیح، 1: 10، رقم: 5

  2. أبو داؤد، السنن، 4: 294، رقم: 4992، دار الفکر

  3. ابن حبان، الصحیح، 1: 213، رقم: 30، مؤسسة الرسالة بیروت

اور قرآن مجید میں ہے۔

يـاَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَآئَکُمْ فَاسِقٌم بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْٓا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًام بِجَهالَة فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ

’’اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق (شخص) کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تم کسی قوم کو لاعلمی میں (ناحق) تکلیف پہنچا بیٹھو، پھر تم اپنے کیے پر پچھتاتے رہ جاؤ‘‘۔

الحجرٰت، 43: 4

ان ارشادات سے کیا معلوم ہوا؟

اللہ اور رسول کے حکم کے مقابلہ میں کسی کی بات کسی مسلمان کیلئے کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اس حکم میں عالم ہو یا عامی، سبھی شامل ہیں۔ کسی کو کوئی استثناء نہیں۔ ہم تطویل سے بچتے ہوئے اختصار سے اپنے مدعا پر قطعی دلائل پیش کریں گے اور اہل علم وانصاف سے ضد وتعصب سے خالی ہوکر، خوف خدا اور یومِ سزا وجزاء کے یقین سے غور فرمانے کی استدعا کرتے ہیں۔ ہم میں سے ہرایک نے اللہ کے حضور حاضر ہوکر جواب دینا ہے۔ اصل عزت وذلت یہاں کی نہیں، روز قیامت کی ہے ۔

اصل مسئلہ (پہلا واقعہ):

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلیٰ الله علیه و آله و سلم رَکِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَیْمَنُ فَصَلَّی صَلَة مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّیْنَا وَرَائَهُ قُعُودًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا صَلَّی قَائِمًا فَصَلُّوا قِیَامًا فَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ وَإِذَا صَلَّی قَائِمًا فَصَلُّوا قِیَامًا وَإِذَا صَلَّی جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم گھوڑے پر سوار ہوئے، پھر اس سے گر گئے۔ آپ کا دایاں پہلو زخمی ہوگیا ۔آپ نے ایک نماز صحابہ کرام کو بیٹھ کر پڑھائی ۔ ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی۔ سلام پھیر نے کے بعد فرمایا : امام کو فقط اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔ سو جب کھڑے ہوکر نماز پڑھائے تو تم (بھی) کھڑے ہوکر نماز ادا کرو۔ جب رکوع کرے تو تم (بھی) رکوع کرو۔ جب اس سے سراٹھائے تم بھی اٹھاؤ، جب ’’سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَہ‘‘کہے تو کہو’’رَبَّنَا لَکَ الْحَمْد‘‘ جب بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر ادا کرو!

بخاري، الصحیح، 1: 244، رقم: 457

مسلم، الصحیح، 1: 308، رقم: 411

(دوسرا واقعہ):

عَنْ عَائِشَة قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اﷲِ صلیٰ الله علیه و آله و سلم جَائَ بِلَالٌ یُوذِنُهُ بِالصَّلَة فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ أَنْ یُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اﷲِ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ أَسِیفٌ وَإِنَّهُ مَتَی مَا یَقُمْ مَقَامَکَ لَا یُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ یُصَلِّي بِالنَّاسِ فَقُلْتُ لِحَفْصَة قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ أَسِیفٌ وَإِنَّهُ مَتَی ما یَقُمْ مَقَامَکَ لَا یُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ قَالَ إِنَّکُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ یُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ أَنْ یُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَة وَجَدَ رَسُولُ اﷲِ صلى الله عليه وسلم فِي نَفْسِهِ خِفَّة فَقَامَ یُهَادَی بَیْنَ رَجُلَیْنِ وَرِجْلَهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ حَتَّی دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَکْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ أَبُو بَکْرٍ یَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَیْهِ رَسُولُ اﷲِ صلى الله عليه وسلم فَجَائَ رَسُولُ اﷲِ صلى الله عليه وسلم حَتَّی جَلَسَ عَنْ یَسَارِ أَبِي بَکْرٍ فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ یُصَلِّي قَائِمًا وَکَانَ رَسُولُ اﷲِ صلى الله عليه وسلم یُصَلِّي قَاعِدًا یَقْتَدِي أَبُو بَکْرٍ بِصَلَة رَسُولِ اﷲِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ مُقْتَدُونَ بِصَلَة أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اﷲُ عَنْهُ.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم کی نقاہت بڑھ گئی تو حضرت بلال (رضی اﷲ عنہ) نماز کا وقت ہونے کی اطلاع دینے سرکار کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ فرمایا: ابو بکر (رضی اﷲ عنہ) سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ میں عرض گزار ہوئی کہ یا رسول اللہ! حضرت ابو بکر (رضی اﷲ عنہ) نرم دل آدمی ہیں۔ وہ جب آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو سنا نہ سکیں گے۔ اگرآپ حضرت عمر (رضی اﷲ عنہ) کو حکم فرمائیں تو بہتر ہو گا۔ فرمایا: ابو بکر (رضی اﷲ عنہ) سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ میں نے حضرت حفصہ (رضی اﷲ عنہا) سے کہا کہ آپ سے عرض کریں کہ حضرت ابو بکر (رضی اﷲ عنہ) نرم دل آدمی ہیں جب آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو سنا نہ سکیں گے، لہٰذا آپ حضرت عمر (رضی اﷲ عنہ) کو حکم فرمائیں تو بہتر ہوگا۔ فرمایا کہ تم حضرت یوسف والی عورتوں کی طرح ہو، ابوبکر (رضی اﷲ عنہ) سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ جب وہ نماز پڑھانے لگے تو رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے کچھ افاقہ محسوس کیا تو آپ دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر کھڑے ہوئے اور آپ کے پاؤں مبارک زمین سے مس ہو رہے تھے۔ یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہوئے۔ حضرت ابوبکر (رضی اﷲ عنہ) نے جب آپ کی آہٹ سنی تو پیچھے ہٹنے لگے۔ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا۔ نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم آ کر حضرت ابوبکر (رضی اﷲ عنہ) کے بائیں جانب بیٹھ گئے۔ حضرت ابو بکر (رضی اﷲ عنہ) کھڑے ہو کر اور رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت ابو بکر (رضی اﷲ عنہ) تو رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کی اقتدا میں اور لوگ حضرت ابو بکر(رضی اﷲ عنہ) کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے‘‘۔

بخاري، الصحیح، 1: 251، رقم: 481

مسلم، الصحیح، 1: 311، رقم: 418

شارحین حدیث کی آرا:

امام بخاری کے شیخ الحمیدی کاارشاد ہے۔

قَالَ أَبُو عَبْد اﷲِ قَالَ الْحُمَیْدِيُّ قَوْلُهُ إِذَا صَلَّی جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا هُوَ فِي مَرَضِهِ الْقَدِیمِ ثُمَّ صَلَّی بَعْدَ ذَلِکَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا وَالنَّاسُ خَلْفَهُ قِیَامًا لَمْ یَأْمُرْهُمْ بِالْقُعُودِ وَإِنَّمَا یُؤْخَذُ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم۔.

امام ابو عبداﷲ بخاری نے حُمَیدی کے حوالے سے فرمایا کہ یہ ارشاد گرامی کہ جب امام بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو یہ حضورصلى اللہ عليہ وسلم کی پرانی بیماری کی بات ہے۔ پھر اس کے بعد نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم نے بیٹھ کر نماز ادا فرمائی اور پیچھے لوگوں نے کھڑے ہو کر ادا کی۔ آپ سرکار نے انہیں بیٹھنے کا حکم نہیں دیا۔ لہٰذا آپ کا آخری فعل ہی لیا جائے گا‘‘۔

بخاري، الصحیح، 1: 244، رقم: 457

امام بدرالدین العینی حنفی اور علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں۔

قد صرح الشافعي بأنّه صلى الله عليه وسلم لم یصل بالنّاس في مرض موته في المسجد الّا مرة واحدة وهي هذه التی صلی فیها قاعدا وکان أبوبکر فیها أوّلاً اماما ثم صار مأموماً یسمع الناس التکبیر.

’’امام شافعی رحمہ اﷲ نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ رسول صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنی مرض وفات میں صرف ایک مرتبہ نماز پڑھائی ہے اور وہ یہی نماز تھی جس کو آپ نے بیٹھ کر پڑھایا ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ اس نماز میں پہلے امام پھر مقتدی بن گئے اور لوگوں کو تکبیر کی آواز سناتے تھے‘‘۔

ثم اعلم أن جواز صلة القائم خلف القاعد هو مذهب أبي حنیفة وأبي یوسف والشافعي ومالک في روایة والأوزاعي واحتجوا في ذٰلک بحدیث عائشة المذکور.

’’پھر جان لیجئے کہ کھڑے کی نماز بیٹھنے والے کے پیچھے جائز ہونا، یہی مذہب ہے ۔ امام ابو حنفیہ ، ابو یوسف، امام شافعی اور ایک روایت کے مطابق امام مالک رحمہم اﷲ کا اور یہی مذہب ہے امام اوزاعی رحمہ اﷲ کا اور ان حضرات نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی حدیث مذکور سے دلیل پکڑی ہے‘‘۔

  1. عیني، عمدة القاري (شرح صحیح بخاري)، 5: 214، دار احیاء التراث العربي بیروت

  2. عسقلاني، فتح الباري (شرح صحیح بخاری)، 2: 275، دار المعرفة بیروت

امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف بن مری نووی، شارح صحیح مسلم اور علی بن سلطان محمد القاری، شارح مشکوٰۃ المصابیح فرماتے ہیں۔

قال أبو حنیفة والشافعي وجمهور السلف رحمهم اﷲ تعالی لایجوز للقادر علی القیام أن یصلي خلف القاعدا الا قائما واحتجوا بأن النبي صلى الله عليه وسلم صلی في مرض وفاته بعد هذا قاعدا وأبو بکر رضي اﷲ عنه والناس خلفه قیاما۔

’’امام ابو حنیفہ امام شافعی اور جمہور ائمہ سلف صالحین رحمہم نے کہا ہے کہ جو مقتدی کھڑا ہو سکتا ہے، وہ بیٹھے امام کے پیچھے صرف کھڑا ہو کر نماز ادا کر سکتا ہے۔ جمہورکی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنی مرض وفات میں بیٹھ کر نماز پڑھی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور باقی تمام صحابہ کرام نے آپ کے پیچھے کھڑے ہوکر نماز پڑھی‘‘۔

  1. نووي، شرح صحیح مسلم، 4: 133، دار احیاء التراث العربي

  2. ملا علي قاري، مرقة المفاتیح (شرح مشکوٰة) 3: 195، دار الکتب العلمیة لبنان/ بیروت

شیخ شبیر احمد عثمانی، شیخ الحدیث مدرسہ دیوبند اپنی تصنیف فتح الملھم، شرح صحیح مسلم میں لکھتے ہیں۔

کان أبو بکر یصلي وهو قائم بصلة النبي صلى الله عليه و سلم والناس یصلون بصلة أبي بکر والنبي صلى الله عليه وسلم قاعد۔ أبو بکر کان یسمعهم التکبیر وهذا یدل علی أن أبا بکر کان مبلغاً، فمعنی الاقتداؤ هم بصوته ویویده انه صلى الله عليه وسلم کان جالساً وکان أبوبکر قائماً، فکان بعض أفعاله یخفی علی بعض المأمومین فمن ثم کان أبوبکر کالامام في حقهم.

’’ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کھڑے ہو کر رسول صلى اللہ عليہ وسلم کی نماز پر قائم تھے اور لوگ ابوبکر رضی اﷲ عنہ کی نماز پر قائم تھے اور رسول صلى اللہ عليہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ ابو بکر رضی اﷲ عنہ لوگوں کو تکبیر سناتے تھے۔ یہ دلیل ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ آواز پہنچانے والے تھے تو اس بات کا مطلب یہ کہ لوگ ابوبکر رضی اﷲ عنہ کی آواز کی اقتداء کرتے تھے اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ حضورصلى اللہ عليہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور ابوبکر کھڑے تھے تو آپ کے کچھ افعال بعض مقتدیوں پر پوشیدہ تھے اسی لئے ابوبکر ان کے حق میں امام کی طرح تھے‘‘۔

شبیر أحمد، فتح الملہم، 3: 238، دار القلم دمشق

علامہ کرمانی، امام جلال الدین عبد الرحمن سیوطی، الشیخ ابو مسعود رشید احمد گنگوھی اور شیخ محمد انور شاہ کشمیری دیوبندی بھی مذکورہ بالا شارحین والا ہی مؤقف رکھتے ہیں۔ اختصار کی خاطر ان صاحبان کی کتابوں کے صرف حوالہ جات ہی پیش کر دئیے ہیں۔

  1. کرماني، شرح بخاري، 5: 71، دمشق

  2. سیوطي، التوشیح شرح الجامع الصحیح، 2: 704، مکتبة الرشد ریاض

  3. رشید أحمد گنگهي، لامع الدراري علی جامع البخاري، المکتبة امدادیة باب العمرة، مکة المکرمة

  4. أنور شاہ کشمیری، فیض الباري شرح الصحیح بخاري، 2: 259، دار الکتاب العلمیة بیروت۔ لبنان

فقہائے امت کے اقوال:

علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی فرماتے ہیں۔

لایفسد اقتداء قائم بقاعد وبأحدب.

’’کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے والے کی نماز بیٹھنے والے اور کبڑے کے پیچھے فاسد (غلط) نہیں‘‘۔

ابن نجیم، البحرالرائق شرح کنزالاقائق، 1: 384، دار المعرفة بیروت

االأصحّ أنه یجوز علی قول محمد وکذا الأظهر علٰی قولهما الجواز.

’’صحیح تر یہ ہے کہ یہ اقتداء درست ہے، امام محمد اور امام ابو حنیفہ وابو یوسف رحمہم کے نزدیک‘‘۔

ابن همام، شرح فتح القدیر، 1: 371، دار الفکر بیروت

یصح اقتداء القائم بالقاعدیؤمّ الأحدب القائم کما یؤمّ القاعد.

’’کھڑے کی اقتداء بیٹھنے والے کے پیچھے درست ہے۔۔۔ کبڑا سیدھا کھڑا ہونے والے کی امامت ایسے کرسکتا ہے جیسے بیٹھا ہوا‘‘۔

الشیخ نظام وجماعة من علماء الہند، الفتاوٰی الہندیة، 1: 85، دار الفکر

یصلّي القائم خلف القاعد وقال محمد رحمه اﷲ تعالیٰ لا یجوز وهو القیاس لقوة حال القائم ونحن ترکنه بالنص وهو ماروي أن النبي علیه اصلة السلام صلی آخر صلاته قاعدا والقوم خلفه قیام۔

’’کھڑا، بیٹھے کے پیچھے نماز ادا کرسکتا ہے امام محمد نے کہا یہ جائز نہیں ، قیاس یہی ہے اس لیے کہ کھڑا ہونے والے کا حال قوی ہے اور ہم نے اسے اُس نص (دلیل شرعی) کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے جو بیان کی گئی ہے کہ نبی کریم علیہ السلام نے آخری نماز بیٹھ کر پڑھائی جبکہ لوگ آپ کے پیچھے کھڑے تھے‘‘۔

  1. مرغیناني، الہدایة شرح البدایة، 1: 58، المکتبة الاسلامیة

  2. ابن همام، شرح فتح القدیر، 1: 348

  3. علاء الدین الکاساني، بدائع الصنائع، 1: 142، دار الکتاب العربي

  4. الحصکفي، الدر المختار وشامی، ردالمحتار، 1: 588، دار الفکر للطباعة والنشر بیروت

وهذا آخر فعل رسول صلى الله عليه وسلم في مرضه فیکون ناسخاً لما کان قبله۔

’’(وفات سے ایک دن پہلے) یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیماری میں آخری فعل ہے۔ لہٰذا پہلی روایت کو منسوخ کرنیوالا ہے‘‘۔

شمس الدین السرخسی، المبسوط، 1: 214، دار المعرفة بیروت

یہ ہے وہ مسئلہ جس کو پڑھے سمجھے بغیر محض حسد وبغض وعناد کی بنا پر، ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب اور ان کے لاکھوں عقیدت مندوں کی دل آزاری کی گئی۔ امید ہے منصف مزاج اہل ایمان کے لیے یہ چند سطور باعث اطمینان ہونگی اور جھوٹے پروپیگنڈا کے تاروپود بکھر جائیں گے۔ اگر اس تحریر میں کوئی بھول ہو گئی ہو تو ہم اﷲ سے توبہ اور متعلقہ حضرات سے معذورت کر لیں گے۔ ہمیں اس میں کوئی عار نہیں۔

واﷲ علی مانقول وکیل۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟