’’در مرشد دا خانہ کعبہ‘‘ کیا شرکیہ کلمہ ہے؟

سوال نمبر:3317

صوفی شاعری کے الفاظ ہیں ’’در مرشد دا خانہ کعبہ‘‘ ان سے کیا مراد ہے؟ ہمارے کچھ دوستوں کے بقول یہ شرکیہ کلمات ہیں۔

.

  • سائل: نذر شاہمقام: دبئی
  • تاریخ اشاعت: 12 نومبر 2014ء

زمرہ: توحید  |  شرک

جواب:

’در مرشد دا خانہ کعبہ‘ کہنا نہ تو کفریہ جملہ ہے اور نہ ہی شرکیہ۔ یہ جملہ کہنے والا دراصل اس بات کا اظہار کر رہا ہے کہ اس کے مرشد کی درگاہ قابل احترام ہے۔ ایسے ہی جیسے اگر آپ کسی شخص کو تعظیماً قبلہ و کعبہ کہتے ہیں تو آپ کے علم میں ہوتا ہے کہ جسے آپ قبلہ و کعبہ کہہ رہے ہیں اسے تعظیم اور احترام دے رہے ہیں نہ کہ اسے سجدہ گاہ قرار دے رہے ہیں۔

توحید اور شرک کے مضامین کو سمجھنے کے لیے ڈاکٹرمحمد طاہرالقادری کی درج ذیل کتاب کا مطالعہ کریں۔

کتاب التوحید۔ حصہ اوّل

کتاب التوحید۔ حصہ دوم

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟