Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا تعویز لکھنے کی اجرت لینا جائز ہے؟

کیا تعویز لکھنے کی اجرت لینا جائز ہے؟

موضوع: دم، درود اور تعویذ   |  روحانیات

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد ظہیرالقادری       مقام: انڈیا

سوال نمبر 3311:
السلام علیکم! بعض لوگ تعویذ بنانے کے لیےجب کسی مولانا کے پاس جاتے ہیں تو مولانا صاحب کہتے ہیں کہ اس میں اتنا خرچ لگےگا مثلا زعفران، گلاب اور مشک وغیرہ خریدنے کاخرچ، کیا یہ خرچ مانگنا جائز ہے؟جبکہ مولانا صاحب کے پاس یہ ساری چیزیں موجود رہتی ہیں اور اتنا روپے نھیں لگتا جتنا وہ لیتے ہیں۔ میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ تعویذ بنانے میں جو وقت لگتا ہے، کیا اس وقت کی اجرت اور محنت لینا شرعا جائز ہے؟ قرآ ن اور حدیث کی روشنی میں بحوالہ جواب دیں۔ مہربانی ہوگی۔

جواب:

زعفران، گلاب اور مشک وغیرہ کے تعویز لکھنے کے لیے  معمولی خرچہ درکار ہوتا ہے۔ اسی طرح سادہ کاغذ پر قرآنی آیات اور احادیثِ مبارکہ میں بیان کردہ دعائیں لکھنے کا خرچہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ جو لوگ تعویذ لکھنے کے نام پر بڑی بڑی رقوم ہتھیاتے ہیں وہ حرام کے مرتکب ہوتے ہیں، اور اسلام کو بدنام کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

تعویذ کی اجرت لینا شرعاً جائز ہے مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ انتہائی مناسب ہو، بہتر یہ ہے کہ کوئی اپنی مرضی سے جتنی دے سکے وہی قبول کی جائے۔

مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

دم درود کے عوض پیسے لینا کیسا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-07-10


Your Comments