کیا ہر انسان اپنے نام کے ساتھ عفیٰ عنہ اور غفرلہ لکھ سکتا ہے؟

سوال نمبر:3306
السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ میرے جیسا ایک عام آدمی جو کہ دین کا عالم بھی نہیں‌ صرف اور صرف علماء سے محبت رکھتا ہے، سلسلہ عالیہ صابریہ میں بیعت ہے اور علمائے اہلسنت خاص کر علامہ ڈاکٹر طاہرالقادی کی کتب کا مطالعہ کرتا ہے۔ کیا اپنے نام کے ساتھ عفی عنہ، غفرلہ لکھ سکتا ہے؟

  • سائل: محمد رمضان صابریمقام: پشاور
  • تاریخ اشاعت: 31 اکتوبر 2014ء

زمرہ: متفرق مسائل

جواب:

عفیٰ عنہ یا غفرلہ ہر مسلمان اپنے نام کے ساتھ لکھ سکتا ہے۔ اس کے لیے نہ تو ممانعت ہے اور نہ ہی عالمِ دین ہونے کی شرط ہے۔ عفیٰ عنہ اور غفرلہ کا معنیٰ ہے کہ اللہ اسے معاف فرمائے یا اللہ اس کی مغفرت فرمائے۔

ہر مسلمان یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی لغزشوں کو معاف فرمائے اور اس کی مغفرت ہوجائے۔ اس لیے ہر مسلمان اپنے نام کے ساتھ یہ الفاظ بلا کراہت لکھ سکتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟