Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - مورث کی اولاد کی غیر موجودگی میں‌ وراثت کی تقسیم کیا ہوگی؟

مورث کی اولاد کی غیر موجودگی میں‌ وراثت کی تقسیم کیا ہوگی؟

موضوع: وراثت کی تقسیم

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد رفیق       مقام: میرپور خاص

سوال نمبر 3293:
جناب مفتی صاحب السلام علیکم! میرا نام محمد رفیق ہے، میں ایک وراثتی مسئلے کے بارے میں آپ سے شرعی راہنمائی فتویٰ کی صورت میں لینا چاہتا ہوں۔

میرے چاچا سسر (میری بیوی کے سگے چاچا) بنام اصغر حسین کا قلیل علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ مرحوم غیر شادی شدہ تھے۔ مرحوم کا ایک بھائی اور ایک بہن سگے (ایک ہی ماں باپ میں سے) تھے جب کہ ایک بہن سوتیلی (یعنی کہ انکی ماں تو ایک تھی لیکن باپ الگ تھے مرحوم کی ماں نے اپنے پہلے شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی کی تھی جس میں سے ایک بیٹی ہوئی) مرحوم کے والدین اور انکے سگے بہن بھائی انکی زندگی میں ہی وفات پاچکے تھے۔ اس وقت مرحوم کے لواحقین میں انکے بھائی کی بیوہ اور اسکی اولاد اور بہن کا شوہر اور اسکی اولاد جبکہ سوتیلی (شادی شدہ) بہن موجود ہیں۔ ہمیں معلوم یہ کرنا ہے کہ انکی چھوڑی ہوئی جائیداد اور بنکوں اور دوسرے مالیاتی اداروں میں چھوڑی ہوئی رقم کے قانونی اور شرعی وارث کون ہونگے؟ اور کس کا کتنا حصہ ہوگا؟

یاد رہے کہ مرحوم کی جو کچھ بھی جائیداد ہے وہ 100فیصد اسکی اپنی کمائی کی ہے اس کو آباؤ اجداد سے ملی ہوئی نہیں ہے۔ اگر مرحوم کی طرف سے مالیاتی اداروں میں موجود اکاؤنٹس میں نومینیشن (نیکسٹ آف کن) میں کسی خاندان کے فرد یا کسی اور کے نام کی صورت میں شرعی اور قانونی طریقہ کار کیا ہوگا؟ اس سے بھی آگاہ فرمائیے گا۔

شکریہ۔

جواب:

بصورت مسئولہ ’’اصغر حسین مرحوم‘‘ کی تجہیز وتکفین، قرض کی ادائیگی اور اگر وصیت تھی تو ایک تہائی سے پوری کرنے کے بعد کل قابل تقسیم مال سے چھٹا (1/6) حصہ اس کی ماں شریک بہن کو ملے گا۔

کتب میراث میں درج ہے کہ جب میت کا بیٹا،بیٹی، پوتا، پوتی، پرپوتا، پرپوتی، باپ، دادا اور پردادا میں سے کوئی موجود نہ ہو تو اخیافی بھائی یا بہن میں سے کوئی ایک ہو تو اس کو چھٹا (1/6) حصہ ملے گا۔ اگر دو بھائی یا بہنیں یا ایک بھائی اور ایک بہن یا پھر ایک سے زیادہ جتنے بھی ہوں تو ایک تہائی (1/3) ملے گا۔ اس میں بھائیوں اور بہنوں کو برابر برابر ملتا ہے۔

لہٰذا اخیافی (ماں شریک بہن) کو چھٹا (1/6) حصہ دینے کے بعد جو بچ جائے گا وہ سگے بھائی کی اولاد (بھتیجے اور بھتیجیوں) میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ ہر لڑکے کو لڑکی سے دوگنا ملے گا۔ باقی بہن کے شوہر اور بھائی کی بیوہ کو کچھ نہیں ملے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-06-27


Your Comments