والدین کی غلطی کی صورت میں ان سے ناراض ہونے پر شریعت کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:3292
میں ایک سال سے بیرونِ ملک میں مقیم ہوں۔ جب میں یہاں‌ آیا تو میں‌ اپنی بیوی کو آبائی گھر میں چھوڑ آیا۔ میری غیر موجودگی میں‌ میرے والد اور دیگر گھر والوں نے میری بیوی کو بہت تنگ کیا۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے میں‌ اپنی بیوی کو اپنے ساتھ لے آیا۔ مگر اب میں اپنے والدین اور دیگر گھر والوں سے ان کے رویہ کی وجہ ناراض ہوں۔ ایسی صورت میں‌ بتائیں شریعت کا کیا حکم ہے؟

  • سائل: غیاث احمدمقام: پشاور
  • تاریخ اشاعت: 07 جولائی 2014ء

زمرہ: والدین کے حقوق

جواب:

والدین سے ناراض ہونے کی ضرورت نہیں، وہ اپنی تمام خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ اولاد کے لیے قابلِ احترام ہوتے ہیں۔

آپ اپنی بیوی کو اپنے ساتھ ہی رکھیں تو بہت اچھا ہے، لیکن اس کے ساتھ اپنے والدین کی ناراضگی دور کر کے اور ان کو منا کر ان کی بھی خدمت کریں۔ ان کے روز مرہ کے اخراجات آپ کے ذمہ ہیں لہٰذا وہ ان کو دیں۔ یاد رکھیں بیوی کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے والدین کے حقوق بھی آپ ہی نے ادا کرنے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟