ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنا ضروری ہے یا ایک ہی وضو سے کئی نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں؟

سوال نمبر:328
ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنا ضروری ہے یا ایک ہی وضو سے کئی نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں؟

  • تاریخ اشاعت: 26 جنوری 2011ء

زمرہ: طہارت   |  وضوء

جواب:

ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنا افضل ہے، البتہ باوضو شخص ایک ہی وضو سے کئی نمازیں ادا کر سکتا ہے، احادیثِ مبارکہ سے اس کا ثبوت ملتا ہے :

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک وضو سے تمام نمازیں پڑھیں اور موزوں پر مسح کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اﷲ علیک وآلک وسلم! آپ نے وہ کام کیا ہے جو اس سے پہلے نہیں کیا تھا! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اے عمر! میں نے یہ کام اِرادتاً کیا ہے۔‘‘

مسلم، الصحيح، کتاب الطهارة، باب جواز الصلوات کلها بوضوء واحد، 1 : 232، رقم : 277

امام بخاری نے حضرت سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز ادا فرمائی اور پھر وضو کیے بغیر مغرب کی نماز ادا فرمائی۔

مذکورہ بالا احادیث کی شرح کرتے ہوئے امام یحییٰ بن شرف نووی فرماتے ہیں کہ جب تک انسان بے وضو نہ ہو وہ متعدد فرض اور نفل نمازیں ایک وضو کے ساتھ پڑھ سکتا ہے۔

نووی، شرح صحيح مسلم، 2 : 178، 177

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟