بینک میں رکھی ہوئی رقم پر اگر سود ملے تو کیا ساری رقم حرام ہو جاتی ہے؟

سوال نمبر:3255
السلام علیکم! اگر کوئی شخص بینک میں پیسے رکھتا ہے، اور اُس کو ِاس رقم پر سود ملنا شروع ہو جاتا ہے ،تو کیا اس کے وہ سارے پیسے حرام ہو جائیں گے ؟ اس بارے میں مزید بھی جو احکام ہیں واضح فرما دیجیے۔

  • سائل: محمد توصیفمقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 16 جون 2014ء

زمرہ: سود   |  جدید فقہی مسائل  |  نفع و نقصان شراکتی کھاتہ

جواب:

جس شخص نے بینک کے سودی کھاتے میں اپنی رقم رکھی ہوئی ہے، اور وہ اپنی رقم میں سود در سود ملاتا چلا جائے گا، تو ظاہر ہے وہ اپنی تمام رقم کو ناپاک کرتا چلا جائے گا۔ اگر جاننے کے بعد بھی سود لے گا تو ساری رقم حرام کرے گا۔ لہٰذا یہ اس کے کھاتہ پر منحصر ہے کہ وہ سودی ہے یا نفع و نقصان شراکتی کھاتہ، اگر نفع و نقصان شراکتی کھاتہ نہیں ہے تو تبدیل کروا کر نفع نقصان شراکتی کھاتہ پر لے آئے یہ سودی کھاتہ نہیں ہے۔

مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

PLS کے بارے میں شرعی طور پر کیا احکام ہیں؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟