Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - بینک میں رکھی ہوئی رقم پر اگر سود ملے تو کیا ساری رقم حرام ہو جاتی ہے؟

بینک میں رکھی ہوئی رقم پر اگر سود ملے تو کیا ساری رقم حرام ہو جاتی ہے؟

موضوع: سود   |  جدید فقہی مسائل  |  PLS اکاؤنٹ

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد توصیف       مقام: کراچی

سوال نمبر 3255:
السلام علیکم! اگر کوئی شخص بینک میں پیسے رکھتا ہے، اور اُس کو ِاس رقم پر سود ملنا شروع ہو جاتا ہے ،تو کیا اس کے وہ سارے پیسے حرام ہو جائیں گے ؟ اس بارے میں مزید بھی جو احکام ہیں واضح فرما دیجیے۔

جواب:

جس شخص نے بینک کے سودی کھاتے میں اپنی رقم رکھی ہوئی ہے، اور وہ اپنی رقم میں سود در سود ملاتا چلا جائے گا، تو ظاہر ہے وہ اپنی تمام رقم کو ناپاک کرتا چلا جائے گا۔ اگر جاننے کے بعد بھی سود لے گا تو ساری رقم حرام کرے گا۔ لہٰذا یہ اس کے کھاتہ پر منحصر ہے کہ وہ سودی ہے یا نفع و نقصان شراکتی کھاتہ، اگر نفع و نقصان شراکتی کھاتہ نہیں ہے تو تبدیل کروا کر نفع نقصان شراکتی کھاتہ پر لے آئے یہ سودی کھاتہ نہیں ہے۔

مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

PLS کے بارے میں شرعی طور پر کیا احکام ہیں؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-06-16


Your Comments