بیوہ اور مطلقہ عورت کی عدت کیا ہے؟

سوال نمبر:3253
اسلام علیکم! بیوہ عورت اور طلاق یافتہ عورت کی عدت میں کیا فرق ہے؟ کیا بیوہ عورت بھی حیض نہ آنے کی صورت میں تین ماہ عدت میں رہے گی؟

  • سائل: محمد شفقت محمودمقام: وحدت کالونی، لاہور
  • تاریخ اشاعت: 14 جولائی 2014ء

زمرہ: بیوہ کی عدت   |  مطلقہ کی عدت

جواب:

ذیل میں بیوہ اور مطلقہ کی عدت الگ الگ بیان کی جا رہی ہے:

بیوہ کی عدت:

ایسی بیوہ جو حاملہ ہو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ یعنی بچے کی پیدائش ہونے پر بیوہ یا مطلقہ کی عدت مکمل ہو جائے گی۔ بھلے بچہ طلاق یا خاوند کے فوت ہونے کے دوسرے دن پیدا ہوجائے یا چھ ماہ بعد، حاملی کی عدت بچے کی پیدائش پر مکمل ہوگی۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًاO

اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اگر تمہیں شک ہو (کہ اُن کی عدّت کیا ہوگی) تو اُن کی عدّت تین مہینے ہے اور وہ عورتیں جنہیں (ابھی) حیض نہیں آیا (ان کی بھی یہی عدّت ہے)، اور حاملہ عورتیں (تو) اُن کی عدّت اُن کا وضعِ حمل ہے، اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے (تو) وہ اس کے کام میں آسانی فرما دیتا ہےo

الطلاق، 65: 4

درج بالا آیتِ مبارکہ کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔

ایسی بیوہ جو حاملہ نہ ہو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌO

اور تم میں سے جو فوت ہو جائیں اور (اپنی) بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ اپنے آپ کو چار ماہ دس دن انتظار میں روکے رکھیں، پھر جب وہ اپنی عدت (پوری ہونے) کو آپہنچیں تو پھر جو کچھ وہ شرعی دستور کے مطابق اپنے حق میں کریں تم پر اس معاملے میں کوئی مؤاخذہ نہیں، اور جو کچھ تم کرتے ہو اﷲ اس سے اچھی طرح خبردار ہے۔

البقرة، 2: 234

فقہاء کرام فرماتے ہیں:

عدة الحرة فی الوفة اربعة اشهر و عشرة ايام سواء کانت مدخولاً بهاء او لا مسلمة او کتابية.

(اگر حاملہ نہ ہو تو) آزاد بیوہ عورت کی عدت چار ماہ دس دن ہے، برابرا ہے کہ وہ مدخول بہا ہو یا نہ ہو مسلمان ہو یا کتابیہ ہو۔

  1. علاء الدين الکاساني، بدائع الصنائع، 3: 92، دارالکتاب العربي، بيروت

  2. الشيخ نظام و جماعة من علماء الهند، الفتاویٰ الهندية، 1: 529، دارالفکر، بيروت

معلوم ہوا کہ آزاد بیوہ غیر حاملہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے، خواہ رخصتی ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو ہر حال میں عدت یہی ہوگی۔

لہٰذا درج بالا سارے مضمون سے معلوم ہوا کہ بیوہ کی عدت دو طرح کی ہے:

  1. ایسی بیوہ جو حاملہ ہو اس کی عدت وضع حمل ہے۔

  2. ایسی بیوہ جو حاملہ نہ ہو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔

مطلقہ کی عدت:

مطلقہ عورت کی عدت کے بارے میں ارشادِ ربانی ہے:

وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ وَلاَ يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُواْ إِصْلاَحًا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللّهُ عَزِيزٌ حَكُيمٌO

اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں، اور ان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اسے چھپائیں جو اﷲ نے ان کے رحموں میں پیدا فرما دیا ہو، اگر وہ اﷲ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں، اور اس مدت کے اندر ان کے شوہروں کو انہیں (پھر) اپنی زوجیت میں لوٹا لینے کا حق زیادہ ہے اگر وہ اصلاح کا ارادہ کر لیں، اور دستور کے مطابق عورتوں کے بھی مردوں پر اسی طرح حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر، البتہ مردوں کو ان پر فضیلت ہے، اور اﷲ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے۔

البقرة، 2: 228

آزاد عورت جس کو رخصتی کے بعد طلاق ہوجائے اس کی عدت کی تین اقسام ہیں:

  1. مطلقہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔

  2. ایسی مطلقہ جس کو حیض آتا ہو اس کی عدت تین حیض ہے۔

  3. ایسی مطلقہ جس کو کم عمری، بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو اس کی عدت تین ماہ ہے۔

مگر ایسی مطلقہ جس کو نکاح کے بعد اور رخصتی سے پہلے طلاق ہو جائے اس پر عدت نہیں ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا

اے ایمان والو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر تم انہیں طلاق دے دو قبل اس کے کہ تم انہیں مَس کرو (یعنی خلوتِ صحیحہ کرو) تو تمہارے لئے ان پر کوئی عدّت (واجب) نہیں ہے کہ تم اسے شمار کرنے لگو، پس انہیں کچھ مال و متاع دو اور انہیں اچھی طرح حُسنِ سلوک کے ساتھ رخصت کرو۔

الاحزاب، 33: 49

ایسی عورت جس کا خاوند گم ہو جائے اور اس کی بالکل کوئی خبر نہ ہو تو وہ چار سال تک انتظار کرے گی، اور چار سال کے بعد عدالت جا کر ثبوت پیش کرے گی کی چار سال سے اس کا خاوند لا پتہ ہے۔ عدالت حالات اور ثبوتوں کا جائزہ لیکر اس کا نکاح منسوخ کر دے گی۔ جس دن عدالت نکاح منسوخ کرے گی اس دن سے وہ عورت چار ماہ دس دن کی عدت گزارنے کی پابند ہوگی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟