Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - قبر پر اذان کیوں دی جا تی ہے؟

قبر پر اذان کیوں دی جا تی ہے؟

موضوع: قبر پر اذان برائے تلقین   |  مستحب

سوال پوچھنے والے کا نام: امیر حمزہ       مقام: گوجرانوالہ

سوال نمبر 3250:
محترم مفتی صاحب سلام مسنو ن! علا مہ ابن حجر نے اذان قبر کا رد کیا ہے، تو پھر اذان کیوں دی جا تی ہے؟

جواب:

قبر پر اذان دینا ایک مستحب عمل ہے، جس کا دل مانے کرلے اور جس کا دل نہ مانے نہ کرے۔ دونوں صورتوں میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ جو قبر پر اذان دے گا وہ ثواب پائے گا اور جو نہ دے اس کو بھی گناہ نہیں۔ یہ (معاذاللہ) کوئی ایسے کلمات نہیں ہیں کہ جن کی ادائیگی گناہ کا باعث بنے، اور نہ ہی یہ عمل فرض یا واجب ہے کہ نہ کرنے کی صورت میں گنہگار ہوں گے۔

مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

کیا قبر پر اذان دینا جائز ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-06-16


Your Comments