Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا بیرونِ ملک سکونت پذیر خاوند کی بیوی کا اس کے گھر رہنا ضروری ہے؟

کیا بیرونِ ملک سکونت پذیر خاوند کی بیوی کا اس کے گھر رہنا ضروری ہے؟

موضوع: خواتین کے حقوق و فرائض   |  معاشرتی آداب

سوال پوچھنے والے کا نام: سلمان       مقام: بھارت

سوال نمبر 3244:
اسلام علیکم جناب مفتی صاحب ! میں بیرون ملک رہ رہا ہوں اور میری بیوی بھارت میں ہے۔ میرے گھر میں میری بہن بھی رہتی ہے۔ براہ مہربانی مجھے بتائیں کہ کیا جب میں گھر میں موجود نہیں ہوں تو بیوی کو گھر میں رکھنا جائز ہے؟ کیا شریعت میں اس کی اجازت ہے؟

جواب:

شریعت کے مطابق تو بیوی کو بھی آپ کے پاس ہونا چاہیے، یا آپ کو اس کی مرضی سے بھارت چکر لگانا چاہیے۔ اگر وہ آپ کے گھر میں محفوظ اور خوش ہے تو اسے ادھر رکھیں اور اگر وہ اپنے والدین کے گھر میں رہنا چاہتی ہے تو وہاں بھی رہ سکتی ہے۔شرعا اس پر کوئی پابندی نہیں ہے کہ وہ کہاں رہے۔ لیکن اس کے اخراجات آپ کے ذمہ ہیں۔ وہ آپ کو ہی ادا کرنے ہوں گے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-05-30


Your Comments