کیا مدرسہ کی تعمیر و مرمت کے لیے زکوٰۃ کی رقم استعما ل کی جا سکتی ہے ؟

سوال نمبر:3235
السلام علیکم! ایک دینی مدرسہ کچھ ناگزیر حالات کی وجہ کئی سالوں سے بند پڑا تھا۔ اب اُسے دوبارہ درس و تدریس کیلئے کھولنے کا ارادہ ہے۔ لیکن مدرسہ کی بلڈنگ خراب ہو چکی ہے،جسے دوبارہ مرمت کی اشد ضرورت ہے۔ کیا ایسی صورت میں مدرسہ کی تعمیر و مرمت کے لیے زکوٰۃ کی رقم استعمال کی جا سکتی ہے؟ اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔

  • سائل: فیاض علی خانمقام: پشاور، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 30 مئی 2014ء

زمرہ: زکوۃ

جواب:

زکوٰۃ کی رقم سے بچوں کے لیے درس و تدریس کا کام کرنا اچھی بات ہے، جائز ہے۔

مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

کیا زکوٰۃ کے پیسوں سے مدرسہ تعمیر کیا جا سکتا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟