کیا قادیانی کی مالی مدد کرنا جائز ہے؟

سوال نمبر:3215
السلام علیکم مفتی صاحب! میرے ماموں نے ایک قادیانی عورت سے شادی کی، جس میں سے ان کے بچے بھی ہیں۔ میاں بیوی میں اب طلاق ہو چکی ہے۔ ماموں کی اولاد قادیانیت کی ہی پیروی کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان بچوں کی کوئی مالی مدد کرنا جائز ہے؟

  • سائل: نامعلوممقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 11 فروری 2016ء

زمرہ: معاملات  |  ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم

جواب:

مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والے قادیانی، احمدی اور لاہوری گروہ خارج از اسلام، کافر، مرتد اور زندیق ہیں اور ان سے معاملات کا حکم دیگر کفار سے مختلف ہے کیونکہ یہ مرتد اور زندیق ہونے کے باوجود اپنے کفر کو اسلام کہتے ہیں۔ اس لیے اگر آپ کے ماموں کی مذکورہ اولاد عاقل و بالغ ہے اور ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی جا چکی ہے، اس کے باوجود وہ مذہبِ قادیانیت پر قائم ہیں اور اسی کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں تو آپ ان کی مالی امداد نہیں کرسکتے۔ آپ کو ان سے قطع تعلقی اختیار کرنی چاہیے ورنہ آپ بھی قیامت کے دن محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مجرم ہوں گے۔ مسئلہ قادیانیت کی وضاحت کے لیے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی درج ذیل کتاب ملاحظہ کیجیے:

عقیدہ ختم نبوت

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟