Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - بغیر مجبوری کے عورت کا گھر سے باہرجانا کیسا ہے ؟

بغیر مجبوری کے عورت کا گھر سے باہرجانا کیسا ہے ؟

موضوع: معاشرتی آداب

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد انور حبیب سیفی       مقام: اسلام آبا د

سوال نمبر 3177:
اگربیوی کوگھر پر ہی تما م سہو لیا ت میسر ہو ں تواس صو رت میں اس کا شا پنگ کے لئے بازار جا نایا وزٹ پر جا نا کیسا ہے؟

جواب:

اسلام دینِ فطرت ہے۔ یہ عورت کو گھر میں قید کر کے رکھنے کا حکم نہیں دیتا۔ عورت کے انسان ہونے کو تسلیم کرتے ہوئے اسے باہر نکلنے کی اجازت دیتا ہے۔ ہر چیز گھر میں لا کر بھی دیں تو عورت کو گھومانے پھرانے لے جانا چاہئے۔ ایک ہی جگہ بیٹھے رہنے کی وجہ سے آج کل کئی طرح کی بماریاں پھیل رہی ہیں۔ اس لئے روزانہ سیر کروانے یا پھر کبھی کبھار باہر کی آب و ہوا لینے کے لئے ضرور لے جانا چاہئے۔

یہاں دو باتوں کاخیال رکھنا ضروری ہے:

  • ایک یہ کہ عورت باپردہ ہوکر باہر جائے گی۔

  • دوسری بات یہ ہے کہ عورت اکیلی باہر نہیں جاسکتی۔ اس لئے بہتر ہے کہ خاوند یا کسی محرم کے ساتھ جائے۔ جیسا کہ حضور ﷺ سفر پر جاتے تو کسی زوجہ محترمہ کو ساتھ لے جاتے تھے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ لگانے کا واقعہ بھی ملتا ہے۔ لہٰذا عورت کو باپردہ گھر سے باہر جانے کی اجازت ہے، لیکن حفاظت کے ساتھ جائے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-04-29


Your Comments