والدین کا اولاد کو گالیاں دینا کیسا عمل ہے؟

سوال نمبر:3176
السلام علیکم ! کیا والدہ کا بچوں کے سامنے اپنے شوہر یعنی بچوں کے والد کے بارے میں اس کے ماضی سے متعلق بری گفتگو کرنی چاہئے؟ نیز و ضاحت فر مائیں کہ : ماں بچوں کو یا بچوں کے سامنے گا لیاں دے یا شریعت کی حدود کو تو ڑے یا بد دعائیں دے تو اس صورت میں بچوں کے لئے کیا حکم ہوگا؟ برا ہ کرم شرعی مسئلے سے آگاہ فر مادیں کہ والدین یا بڑو ں کا ایسا رویہ رکھنے سے جو ری ایکشن ہو گا اس کا اصل ذمہ دار کون ہے ؟

  • سائل: اسد علیمقام: ڈی آئی خان
  • تاریخ اشاعت: 29 اپریل 2014ء

زمرہ: اولاد کے حقوق

جواب:

بچوں کے سامنے ان کے والد کی ماضی میں کی ہوئی اچھائیاں تو ضرور بیان کرنی چاہئیں تاکہ بچوں کے ذہن میں والد کی عزّت و تکریم میں اضافہ ہو، لیکن اس کے عیب نہیں کھولنے چاہئیں۔ پردہ پوشی انتہائی ضروری ہے۔دوسری
بات یہ ہے کہ گالیاں تو کہیں بھی دینا جائز نہیں ہے۔ اگر والدہ بچوں کے سامنے گالیاں دے گی تو بچوں کو بھی عادت پڑجائے گی اس کی ذمہ دار ان کی ماں ہو گی، جس نے ان کو گالیاں سکھائی ہیں۔ اگر بچے بڑے ہوگئے ہیں اورسمجھدار ہیں تو انہیں ماں کے اس رویّہ کو نہیں اپنانا چاہیئے۔ لیکن یہاں یہ بات بڑی قابلِ غور ہے کہ کہیں ماں کو گالیاں دینے پر مجبور تو نہیں کیا گیا؟ کہیں وہ مظلومہ تو نہیں ہے؟ اگر وہ کسی کے ظلم و ستم سے تنگ آکر ایسا کر رہی ہے تو پھر اس کے مسائل حل کرنا ضروری ہے۔ اگر ایسا کوئی مسئلہ نہ ہونے کے باوجود گالیاں دیتی ہ تو پھر سخت گنہگار ہے۔ اس کو چاہئے کہ توبہ کرے اور آئندہ ایسا نہ کرے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟