کیا حالتِ غصہ میں صرف ’’طلاق طلاق‘‘ کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

سوال نمبر:3173
السلام علیکم! میں نے شدید غصّہ میں آکر’’ طلاق طلاق‘‘ کہہ کر بیوی کو گھر سے نکال دیا ہے۔ براہِ کرم یہ بتائیے کہ کیا اس طرح طلاق واقع ہوجاتی ہے ؟

  • سائل: ساجد حسینمقام: چکوال
  • تاریخ اشاعت: 19 اپریل 2014ء

زمرہ: مریض کی طلاق

جواب:

غصہ کی تین حالتیں ہیں۔ ذیل میں ان تینوں حالتوں اور ان میں دی گئی طلاق کے احکامات کی وضاحت کی گئی ہے۔
اس سوال کا تفصیلی جواب گزر چکا ہے، مطالعہ کیلئے یہاں کلک کریں
حالت غصہ میں دی گئی طلاق کا کیا حکم ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟