Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا حالتِ غصہ میں صرف ’’طلاق طلاق‘‘ کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

کیا حالتِ غصہ میں صرف ’’طلاق طلاق‘‘ کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

موضوع: طلاق   |  مریض کی طلاق   |  اقسام طلاق   |  طلاق صریح   |  طلاق رجعی   |  طلاق بائن   |  طلاق مغلظہ(ثلاثہ)

سوال پوچھنے والے کا نام: ساجد حسین       مقام: چکوال

سوال نمبر 3173:
السلام علیکم! میں نے شدید غصّہ میں آکر’’ طلاق طلاق‘‘ کہہ کر بیوی کو گھر سے نکال دیا ہے۔ براہِ کرم یہ بتائیے کہ کیا اس طرح طلاق واقع ہوجاتی ہے ؟

جواب:

غصہ کی تین حالتیں ہیں۔ ذیل میں ان تینوں حالتوں اور ان میں دی گئی طلاق کے احکامات کی وضاحت کی گئی ہے۔
اس سوال کا تفصیلی جواب گزر چکا ہے، مطالعہ کیلئے یہاں کلک کریں
حالت غصہ میں دی گئی طلاق کا کیا حکم ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-04-19


Your Comments