Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا بڑے بیٹے کے نام رجسٹر زمین والد کے ترکہ میں‌ تقسیم ہوگی؟

کیا بڑے بیٹے کے نام رجسٹر زمین والد کے ترکہ میں‌ تقسیم ہوگی؟

موضوع: وراثت کی تقسیم

سوال پوچھنے والے کا نام: عامر رفیق       مقام: پاکستان

سوال نمبر 3091:
السلام علیکم! میرا سوال میراث کا مسئلہ سے متعلقہ ہے۔ میری والدہ نے مجھے آٹھ کنال زمین عطیہ کی، جبکہ سولہ کنال ان سے میں نے خرید لی، کیا اس میں سے باقی بہن بھائیوں‌ کو حصہ ملے گا؟ میرے والد نے ایک کمرشل پلاٹ‌ خرید کر میرے نام کیا ہے، کیا اس میں سے میری سوتیلی ماں اور باقی بہن بھائیوں‌ کو حصہ ملے گا؟

جواب:

آپ کی والدہ نے آٹھ کنال زمین آپ کو دی، اور باقی اولاد کو محروم رکھا، اس طرح انہوں نے باقی ورثاء کی حق تلفی کی، جس کے بارے میں وہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہیں۔

جو زمین آپ نے اپنی والدہ سے خریدی اس کے مالک آپ ہیں۔ اس میں باقی کسی کا حق نہیں۔

مسئلہ کا حل یہی ہے کہ آپ کی والدہ کی وفات کے بعد ان کے ترکہ میں اس آٹھ کنال زمین کو بھی شامل کر کے ورثاء میں تقسیم کر دی جائے تاکہ ان پر سے جوابدہی کا بوجھ ہلکا ہو۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا ہے۔

جو کمرشل پلاٹ آپ کے والد کے پیسوں سے خریدا گیا، اگرچہ وہ آپ کے نام رجسٹر ہے، تاہم اس میں باقی ورثاء کا بھی حق ہے۔ لہٰذا آپ کے والد صاحب کی وراثت کے طور پر یہ تمام موجود ورثاء میں تقسیم ہوگا۔ حیلوں بہانوں سے اسے ہتھیانے کی کوشش کرنے پر آپ عنداللہ جوابدہ ہوں گے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2015-11-11


Your Comments