Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کنایہ الفاظ بولنے سے کونسی طلاق واقع ہوتی ہے؟

کنایہ الفاظ بولنے سے کونسی طلاق واقع ہوتی ہے؟

موضوع: معاملات  |  طلاق بائن

سوال پوچھنے والے کا نام: محسن خان       مقام: فرانس

سوال نمبر 3051:
السلام علیکم میری اور میری بیوی کی لڑائی ہو گئی، میں نے اسے طلاق دینے کی دھمکیاں دیں کہ اگر تم باز نہیں آئی تو میں طلاق دے دوں گا۔ میں نے اس کو فعل مستقبل میں یہ کہا اور اس طرح کئی دنوں سے ہماری لڑائی ہو رہی ہے اور میں مسلسل اسے اس طرح کی دھمکیاں دے رہا ہوں جبکہ مجھے طلاق کے بارے میں صرف اتنی معلومات تھی کے مرد 1 2 یا 3 دفعہ طلاق کا لفظ استعمال کر کہ کہے کہ وہ اسے چھوڑ رہا ہے تو تب طلاق ہوتی ہے۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا اسے اور نہ مجھے اسے چھوڑنے کی نیت تھی، میں اس کو ڈرانے کے لیے دھمکیاں دے رہا تھا۔ ہاں میرے ذہن میں یہ خیال تھا کہ اگر حالات صحیح نہیں ہوتے اور وہ اپنے کیے پر شرمندہ نہیں ہوتی تو پھر میں اس کی کسی بہن یا اپنے امی ابو کو سامنے بلا کر اور ان کو گواہ ٹھہراہ کر اسے ایک دفعہ ایسا کہہ دوں گا تاکہ اسے سبق بھی مل جائے اور گواہ بھی ہو کے ایک دفعہ کہا ہے اور ہم رجوع کر لیں۔ میں نے باتوں باتوں میں اسے کہا بھی کہ اب مجھ سے کسی گواہ کو ساتھ رکھ کر بات کرنا۔ مجھے کنایات کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا، میں پچھلے 20 دن سے لڑ رہا ہوں اور ہماری ساری بات ان دنوں میں کمپیوٹر پر ٹائپنگ کے ذریعے ہوئی۔ میں نے کنایات کے بارے میں پڑھنے کے بعد جب اپنی ساری باتیں کمپیوٹر پر دیکھیں تو میں پریشان ہو گیا، کیوں کہ میں نے بہت ساری ناجائز باتیں کیں۔ جن میں‌ سے کچھ باتیں میں لکھ رہا ہوں۔ برائے مہربانی میری سب باتوں کو دیکھ کر اور میری اوپر والی نیت کو دیکھ کر مجھے بتائیں کے ہمارا رشتہ قائم ہے اور اگر خدانخواستہ قائم نہیں تو کس حد تک ٹوٹا ہے کیا دوبارہ نکاح کی ضرورت ہے یا وہ بھی ممکن نہیں۔ میں بیوی کی بھی اور جواب میں کہیں کہیں اپنی کچھ باتیں بھی لکھتا ہوں۔ یہ سب الگ الگ مواقع کی باتیں ہیں۔ میں درمیان سے مشکوک کچھ باتیں لکھ رہا ہوں۔ شوہر: کاش میں تم سے شادی نہ کرتا۔ بیوی: اگر میں آپ کے پاس ہوتی تو کیا کرتے۔ شوہر : اللہ نہ کرے اب ہم پاس ہوں ۔۔ تم جن کے پاس ہو ادھر ہی رہو۔ (وہ مہکے میں ہے) بیوی : سویٹ ہرٹ (مجھے منانے کے لیے کہتی ہے) شوہر : میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں جس کے پاس ہو اسی کو کہو سویٹ ہرٹ۔ میں تمہیں فرانس نہیں بھلاؤں گا۔ امی ابو کو بھلاؤں گا۔ تم اپنے ماں باپ کے گھر رہو۔ پھر تمہیں اپنے شوہر کے گھر کی قدر آئے گی۔ شوہر: کاش تم میری زندگی میں نہ آتی۔ شوہر: آپ کو آپ کے سب رشتہ دار (نام لے کر کہا کاشف، ناصر اس کے ابو وغیرہ) مبارک ہوں۔ آپ نے میری زندگی میں جو سکون دیا اس کا بہت بہت شکریہ۔ اب مجھ سے 2 گواہوں سمیت بات کرنا ورنہ میں مناسب طریقہ چھوڑ دوں گا (یہ کہتے ہوئے میرے ذہن میں یہ تھا کہ مجھ سے 2 گواہوں سمیت بات کرو اب ورنہ میں یہ طریقہ چھوڑ دوں گا گواہوں والا اور سیدھا کہہ دوں گا۔) شوہر: میں تمہاری آنے والی نسلوں پہ لعنت بھیجتا ہوں اور اگر میں یہ کہ رہا ہوں تو یہ تو سمجھ لو کہ تماری آنے والی نسلیں میری نہیں ہو سکتیں۔ کیوں کے میں ان پر لعنت نہیں بھیج سکتا، اس لیے اب میری باتوں کو سنجیدگی سے لو، اب 2 بندوں سمیت بات کرنا۔ شوہر: اور تم کسی خوش فہمی میں نہ رہنا کہ میں اتنا زیادہ سٹریس اپنی زندگی میں رکھوں گا۔ طلاق کی اجازت ہونے کا مقصد ہی یہی ہے کے اگر میاں بیوی کی زندگی مسلسل سٹریس بن جائے تو اس سے اپنے راستے الگ کر لیے جائیں۔ اور پھر تم اپنے پیارے (لڑکے کا نام لے کر) کے ساتھ چلی جانا، اسی سے پیار کرنا، مجھے پوری امید ہے وہ ہم دونوں کی علیحدگی سے ضرور خوش ہو گا۔ اور اس طرح کی باتیں اور گالی گلوچ میں نے بار بار کیا اس سے۔ اس کی 1 غلطی پر مجھے اپنے گناہ کا احساس ہے پر اب مجھے تسلی نہیں مل رہی کنایات کا سن کے۔ مجھے یہ بھی بتائیں کے اگر کوئی ایسی بات ہو گئی ہے 1 یا 1 سے زیادہ دفعہ جس سے نکاح ٹوٹ گیا ہے تو کیا دوبارہ نکاح ممکن ہے۔

جواب:

آپ نے واضح یعنی صریح طلاق تو نہیں دی۔ لیکن اشارہ کنایہ الفاظ میں کوئی قصر نہیں چھوڑی، جب آپ نے اپنی بیوی سے کہا کہ (میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں) پھر کوئی شک نہیں رہنا چاہیے کہ آپ کا نکاح باقی رہے۔ لہذا آپ لوگوں کا نکاح ختم ہو چکا ہے، ایک طلاق واقع ہوئی ہے کیونکہ اشارہ کنایہ میں جب نکاح ٹوٹ جاتا ہے پھر بعد میں جو بھی الفاظ بولے جائیں ان سے طلاق واقع نہیں ہوتی کیونکہ نکاح ہی باقی نہیں رہتا۔

لیکن افسوس ہے آپ لوگ پیار محبت سے میاں بیوی بن کر رہنے کی بجائے نفرت بھری گفتگو میں مصروف رہتے ہیں۔ بہر حال اب آپ کی بیوی آزاد ہے عدت کے بعد جہاں چاہے دستور کے مطابق نکاح کر سکتی ہے۔ اگر وہ چاہے تو آپ کے ساتھ بھی دوبارہ نکاح کر سکتی ہے، لیکن سوچ سمجھ کر کرے۔ تاکہ آئندہ رہیں تو میاں بیوی بن کر رہیں، اگر ایسا نہیں کر سکتے تو اب وقت ہے الگ الگ ہو جائیں۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں
طلاق کی نیت کے بغیر کنایہ الفاظ بولنے پر کیا حکم ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-02-05


Your Comments