Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - تعزیت کا مسنون طریقہ کیا ہے؟

تعزیت کا مسنون طریقہ کیا ہے؟

موضوع: معاشرتی آداب

سوال پوچھنے والے کا نام: فداء الرحمان عابد       مقام: تورڈھیر، صوابی، خیبرپختونخواہ، پاکستان

سوال نمبر 3046:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں جب فوتگی ہوتی ہے تو پہلے سارے گاؤں میں لاؤڈ سپیکر پر اعلانات ہوتے ہیں۔ پھر جنازے کے بعد اہلِ میت حجرے میں تین دن تعزیت کیلئے بیٹھتے ہیں اور لوگ آتے رہتے ہیں اور دعا کرتے ہیں۔ لوگ آتے ہوئے اور پھر جاتے ہوئے آواز لگاتے ہیں کہ "ایک اجتماعی دعا کر لیں گے"۔ اسی دوران آتے ہوئے لوگ اپنے ساتھ چائے وغیرہ بھی لاتے ہیں اور چائے لوگوں کو پلاتے ہیں۔ تو اب آپ صاحبان سے پوچھنا یہ چاہتے ہیں کہ : (1) مساجد میں میت کا اعلان کرنا جائز ہے یا نہیں؟ (2) جنازے کے بعد اسی طرح تین دن تعزیت کیلئے حجرے میں بیٹھنا کیسا ہے؟ (3) آتے جاتے لوگوں کا دعاء کیلئے اس طرح آواز لگانا کیسا ہے؟ (4) تعزیت کے دعاء میں ہاتھ اٹھانا کیسا ہے؟ (5) تعزیت کی جگہ لوگوں کا چائے پینا اور خوش گپیوں میں مصروف ہونا کیسا ہے؟ (6) بعض دین دار طبقہ گاؤں میں اس طرح حجرے میں بیھنے اور دعاء کے اس مروج طریقے کو بدعت اور خلاف سنت کہتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کیسا ہے؟ (7) تعزیت کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ (8) میت کے گھر کا کھانا کیسا ہے؟ (9) مساجد میں میت کی چارپائی رکھنا کیسا ہے؟ (10) مساجد میں میت کو غسل دینے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ مذکورہ بالا سوالات کے جوابات شرعی نقطہ نظر سے بمع ادلہ شرعیہ دیکر عنداللہ ماجور ہوں۔ اور ہماری کشیدگی کا ازالہ کر کے ممنون فرمائیں۔ جزاکم اللہ فی الدارین خیراوبارک اللہ فی سعیکم۔

جواب:

آپ کے سوالات کی طرف آنے سے پہلے چند وضاحتیں ضروری ہیں۔ احادیث مبارکہ میں خاوند کے علاوہ میت کا تین دن سوگ کرنے کا ذکر ہے:

قَالَتْ زَيْنَبُ دَخَلْتُ عَلَی اُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ حِينَ تُوُفِّيَ اَبُوهَا اَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ فَدَعَتْ اُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ اَوْ غَيْرُهُ فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ وَالله مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ اَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ الله يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرَاَةٍ تُوْمِنُ بِالله وَالْيَوْمِ الْآخِرِ اَنْ تُحِدَّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَـلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَعَشْرًا

حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میں حضورنبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی  زوجہ حضرت اُم حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی جبکہ اُن کے والد ماجد حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوگیا تھا۔ حضرت اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا نے خوشبو منگائی جس میں خلوق یاکسی اور چیز کی زردی تھی۔ انہوں نے وہ خوشبو ایک لڑکی کو لگائی اور تھوڑی سی اپنے رخسار پر بھی مل لی، اور فرمایا کہ خدا کی قسم! مجھے خوشبو کی حاجت نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ کسی عورت کے لئے یہ جائز نہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہو کہ تین دن سے زیادہ کسی میت کا سوگ کرے سوائے اپنے خاوند کے اُس کا سوگ چار ماہ دس دن ہے۔

  1. بخاري، الصحیح، 5: 2042، رقم: 5024، دار ابن کثیر الیمامة بیروت
  2. مسلم، الصحیح، 2: 1123، رقم: 1486، دار احیاء التراث العربي بیروت

قَالَتْ زَيْنَبُ فَدَخَلْتُ عَلَی زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ اَخُوهَا فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ ثُمَّ قَالَتْ اَمَا وَالله مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ اَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ الله يَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ لَا يَحِلُّ لِامْرَاَةٍ تُوْمِنُ بِالله وَالْيَوْمِ الْآخِرِ اَنْ تُحِدَّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَعَشْرًا

حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ اُم المؤمنین زینب بنتِ حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی جبکہ ان کے بھائی کاانتقال ہوگیا تھا۔ انہوں نے خوشبو منگائی اور اس میں تھوڑی سی لگاکر فرمایا: خدا کی قسم! مجھے خوشبو کی حاجت نہیں ہے، لیکن میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عورت کے لیے یہ حلال نہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہو کہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ کرے، سوائے اپنے خاوند کے کہ وہ چار ماہ دس دن ہے۔

  1. بخاري، الصحیح، 1: 430، رقم: 1222
  2. مسلم، الصحیح، 2: 1124، رقم: 1484

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے تین دن سوگ کرنے کا ثبوت تو واضح ہے لیکن تیسرا ، دسواں ، چالیسواں دن شرعاً ضروری نہیں۔ یہ عارضی طور پر اور انتظامی سہولت کے پیش نظر مقرر کیے جاتے ہیں۔ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر بہت سے حقوق ہوتے ہیں جن میں بیمار کی عیادت کرنا، مرجائے تو اس کے جنازہ میں شریک ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے:

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله لِلْمُوْمِنِ عَلَی الْمُوْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ يَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيَنْصَحُ لَهُ إِذَا غَابَ اَوْ شَهِدَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مومن کے دوسرے مومن پر چھ حق ہیں:

  1. بیمار ہو تو عیادت کرے
  2. مر جائے تو نماز جنازہ میں شامل ہو
  3. دعوت دے تو قبول کرے
  4. ملاقات کرے تو سلام کرے
  5. اسے چھینک آئے توجواب دے۔یعنی یرحمک اللہ ( اللہ تجھ پر رحم فرمائے ) کہے
  6. اس کی موجودگی و عدم موجودگی میں اس کی خیر خواہی کرے۔
  1. ترمذي، السنن، 5: 80، رقم: 2737
  2. نسائي، السنن الکبری، 1: 630، رقم: 2065، دار الکتب العلمیة بیروت

ایک اور روایت میں ہے:

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله لِلْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ سِتٌّ بِالْمَعْرُوفِ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ وَيَتْبَعُ جَنَازَتَهُ إِذَا مَاتَ وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے رسول کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر نیکی میں چھ حقوق ہیں: جب ملاقات کرے تو سلام کہے، اس کی دعوت قبول کرے، چھینک کا جواب دے، بیمار ہو تو عیادت کرے، مر جائے تو اس کے جنازہ کے پیچھے چلے اور اس کے لیے وہی چیز پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

  1. احمد بن حنبل، 1: 88، رقم: 673
  2. ترمذي، السنن، 5: 80، رقم: 2736
  3. ابن ماجه، 1: 641، رقم: 1433، دار الفکر بیروت

عموماً مرنے والے کے عزیز، رشتہ دار اور دوست احباب ہوتے ہیں، ان میں کچھ تو جنازے میں شریک ہوجاتے ہیں، جبکہ کچھ بوجوہ شریک نہیں ہوسکتے۔ اب دو صورتیں بنتی ہیں: ایک تو وہ چپ کرکے بیٹھے رہیں اور آنے کی زحمت ہی نہ کریں، دوسرا یہ کہ وہ میت کے عزیز و اقارب کے پاس اظہار تعزیت کے لیے آئیں۔ بزرگوں نے چند دن اپنی اور آنے والوں کی سہولت کے لیے مخصوص کردئیے تاکہ دونوں کو سہولت رہے، یہی دن بعد میں تیسرا یا چالیسواں کے نام سے مشہور ہوگئے جو جنازے سے رہ گیا وہ قل خوانی پر آجائے جو اس سے رہ گیا وہ دسواں یا چالیسویں میں شریک ہوجائے۔

مقرر کردہ دنوں میں اعزاء و اقارب کے جمع ہونے کے بعدگپ شپ کے بجائے تلاوت قرآن پاک، کلمہ طیبہ اور درود و سلام وغیرہ کا ورد کرنا یا حسب توفیق صدقہ و خیرات کرنا تاکہ جمع ہونے والوں اور اہل خانہ کی طرف سے مرحوم کو ثواب ارسال کردیا جائے اور دعائے مغفرت کی جائے، تو یہ باعث ثواب ہے اور میت کے لیے کار آمد ہے۔

رہا مسئلہ کھانا کھلانے کا تو عرض ہے کہ جب لوگ اظہار تعزیت کے لیے آتے ہیں تو کچھ دور سے آرتے ہیں اور کچھ نزدیک سے۔ اگر ایسے موقع پر کھانا نہ کھلائیں تو یہ بری بات ہے ویسے بھی حدیث مبارکہ میں ہے:

عَنْ عَبْدِ الله بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ الله عَنْهُمَا اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ النَّبِيّ  اَيُّ الإِْسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ: تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَاُ السَّلَامَ عَلَی مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ کونسا اسلام بہتر ہے؟ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھانا کھلاؤ، اور آشنا و ناآشنا کو سلام کرو۔

  1. بخاري، الصحیح، 1: 13، رقم: 12
  2. مسلم، الصحیح، 1: 65، رقم: 39
  3. احمد بن حنبل، 2: 315، رقم: 6581

لہٰذا درود و سلام پڑھنا، صدقہ و خیرات کرنا، قرآن کی تلاوت کرنا، اللہ کا ذکر کرنا، کھانا کھلانا، کپڑے پہنانا، خلوص و دل سے ہو، رزق حلال سے ہو تو نیکی ہے اور کارِ ثواب ہے۔ ان تمام ثوابوں کو جمع کرکے مرنے والوں کے نام بھیجنا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کرنا قرآن و حدیث کے عین مطابق ہے۔ الاّ یہ کہ لواحقین غریب ہیں تو ان کی طرف سے کھانا بری بات ہے۔ مرنے کے بعد مرنے والے کو نیکیوں کی ضرورت ہے، شاید یہی ذکر و نعمت اور صدقہ و خیرات اس کے لیے بخشش کا وسیلہ بن جائے۔ میت کو ایسے اعمال کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔ شریعت میں قل، دسواں، چالیسواں کا کوئی شرعی حکم نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے عرف میں ہے، اچھی چیز ہے، مستحب ہے اور اس میں کوئی برائی نہیں۔ مزید وضاحت کے لئے پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی کتاب ’’ایصال ثواب کی شرعی حیثیت‘‘ کا مطالعہ کریں۔

اب آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:

  1. مساجد میں میت کا اعلان کرنے کا اصل مقصد لاؤڈ سپیکر کے ذریعے اہل علاقہ تک خبر پہنچانا ہوتا ہے۔ کیونکہ لاؤڈ سپیکر کی سہولت مسجد کے علاوہ ہر جگہ دستیاب نہیں ہوتی، اس لیے مناسب حد تک مسجد کے لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ سے کسی کے مرنے یا جنازے کا اعلان کرنا جائز ہے۔ اس کے لیے قرآن وحدیث سے دلائل کی ضرورت نہیں کیونکہ عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ اگر یہ سہولت دورِ نبوی، صحابہ کرام، تبع تابعین اور اَئمہ میں ہوتی تو ضرور فائدہ اٹھایا جاتا۔
  2. غیر شوہر کے لئے تین دن تک سوگ منانا شرعاً جائز ہے، جیسا کہ اوپر احادیث مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے جب لوگ تعزیت کے لئے آئیں گے تو اہل میت کا کسی جگہ بیٹھنا بھی ضروری ہے۔ تعزیت کے بارے میں احادیث مبارکہ میں ہے:

عَنْ عَبْدِ الله عَنِ النَّبِيِّ قَالَ مَنْ عَزَّی مُصَابًا فَلَهُ مِثْلُ اَجْرِهِ

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جس نے کسی مصیبت زدہ کی دلجوئی (تعزیت) کی اس کے لئے اتنا ہی اجر ہے جتنا مصیبت زدہ کے لئے۔

  1. ترمذي، السنن، 3: 385، رقم: 1073
  2. ابن ماجه، 1: 511، رقم: 1602

اور حضرت ابوبرزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

قَالَ رَسُولُ الله مَنْ عَزَّی ثَکْلَی کُسِيَ بُرْدًا فِي الْجَنَّة

حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے غمزدہ کی دلجوئی (تعزیت) کی اس کو جنت میں چادر اوڑھائی جائے گی۔

  1. ترمذي، السنن، 3: 387، رقم: 1076
  2. ابو یعلی، المسند، 13: 433، رقم: 7439، دار المامون للتراث دمشق
  1. لوگوں کو دعا کے لئے کہنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ ان لوگوں کے جمع ہو کر بیٹھنے کا اصل مقصد میت کے لئے ایصال ثواب کرنا ہی ہوتا ہے نہ کہ گپ شپ میں مشغول ہونا۔
  2. ہاتھ اٹھائے بغیر بھی دعا مانگنا جائز ہے لیکن ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا سنت ہے۔ اس لئے دعا تعزیت کے لئے ہو یا کسی اور مقصد کے لئے ہاتھ اٹھانا افضل ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے:

عَنْ اَبِي مُوسَی قَالَ دَعَا النَّبِيُّ بِمَاءٍ فَتَوَضَّاَ بِهِ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ اَبِي عَامِرٍ وَرَاَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَة فَوْقَ کَثِيرٍ مِنْ خَلْقِکَ مِنَ النَّاسِ

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوا کر اس سے وضو فرمایا، پھر اپنے ہاتھ اٹھا کر یوں دعا کی: اے اللہ! عبید ابو عامر کی مغفرت فرما اور میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ پھر دعا کی: اے اللہ! قیامت کے روز اپنی مخلوق سے اس کا مرتبہ اکثر لوگوں سے بلند رکھنا۔

بخاري، الصحیح، 4: 1571، 5: 2345، رقم: 4068، 6020

ایک روایت میں ہے:

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ کَانَ رَسُولُ الله إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ لَمْ يَحُطَّهُمَا حَتَّی يَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے تو اپنے چہرہ اقدس پر پھیرنے سے پہلے (ہاتھ) نیچے نہ کرتے تھے۔

ترمذي، السنن، 5: 463، رقم: 3386

مذکورہ بالا احادیث میں آقا علیہ الصلوٰ والسلام سے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا ثابت ہے اور درج ذیل حدیث مبارکہ میں ہاتھ اٹھانے کی فضیلت بیان کی گئی ہے:

عَنْ سَلْمَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله إِنَّ رَبَّکُمْ تَبَارَکَ وَتَعَالَی حَيِيٌّ کَرِيمٌ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ اَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک تمہارا رب بڑا حیادار اور کرم کرنے والا ہے۔ اُسے اس بات سے حیاء آتی ہے کہ اُس کے بندوں میں سے کوئی (دعا کے لئے اس کے سامنے) اپنے ہاتھ اٹھائے اور وہ انہیں خالی (ان میں خیرات ڈالے بغیر) واپس لوٹا دے۔

  1. ابي داؤد، السنن، 2: 78، رقم: 1488
  2. ترمذي، السنن، 5: 556، رقم: 3556
  3. ابن ماجه، 2: 1271، رقم: 3865

نوٹ: ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کے بارے میں اور بھی بہت سی روایات ہیں، اختصار کی خاطر چند روایات بیان کی ہیں۔ مزید وضاحت کے لئے پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی کتاب ’’المنہاج السوي‘‘ کے باب ’’الدُّعَاءُ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوْبَۃ‘‘ (فرض نمازوں کے بعد دعا کرنا) کا مطالعہ کریں۔

  1. تعزیت کے لئے آئے ہوئے لوگوں کے کھانے پینے کے بارے میں کچھ اوپر بیان کر دیا گیا ہے مزید وضاحت آگے آ رہی ہے۔ دوسری بات خوش گپیوں میں مصروف ہونا اہل میت کی دلجوئی کی بجائے باعث تکلیف ہے۔ لہٰذا گپ شپ کی بجائے تلاوتِ قرآن مجید اور ذکر ونعت میں مصروف رہیں اور میت کے لئے دعائے مغفرت کریں۔
  2. یہ سب نیکی کے کام ہیں اگر کوئی کرے تو باعث اجر وثواب ہیں نہ کرنے والے کو گناہ نہیں ہے۔ لیکن ان کو بدعت اور خلاف سنت کہنا جہالت ہے۔
  3. تعزیت کا مسنون طریقہ یہی ہے کہ اہل میت کو تسلی دیں، ان کی دلجوئی کریں،ان کو صبر کی تلقین کریں اور موقع کی مناسبت سے چند جملے بولے جائیں۔ اگر کوئی ضرورت ہو تو حسب توفیق پوری کی جائے۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی کا بیٹا قریب المرگ تھا آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ پیغام بھیجا:

إِنَّ ِلله مَا اَخَذَ وَلَهُ مَا اَعْطَی وَکُلٌّ عِنْدَهُ بِاَجَلٍ مُسَمًّی فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ

جو لیا وہ بھی خدا کا ہے، اور جو دیا وہ بھی اسی کی ملکیت ہے۔ ہر ایک چیز کا اس کے پاس وقت مقرر ہے (یعنی مرحوم کی زندگی متعین تھی)۔ لہٰذا صبر کرو! اور ثواب کی اُمید رکھو۔

بخاري، الصحیح، 1: 431، رقم: 1224

  1. ہمارے ہاں جس طرح کئی فضول رسمیں اور بدعات روزمرہ قدم قدم پر دیکھنے میں آتی ہیں۔ اسی طرح غمی و شادی کے مواقع پر بھی ان کا دور دورہ ہوتاہے اور مسلمان نیکی سمجھ کر بسا اوقات گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ان میں ایک رسم یہ ہے کہ کسی کے مرنے پر تمام گاؤں بلکہ مضافات والوں کو میت کے گھر والے کھانا کھلاتے ہیں اسے خیرات کہتے ہیں۔ کوئی اچھی خیرات کھلا دے تو اس کے گن گاتے ہیں اور نہ کھلائے یا مرضی کے مطابق نہ کھلائے تو مرنے والے اور اس کے خاندان کے خلاف بد گوئی اور طعن و طنز کی بھرپور مہم چلاتے ہیں۔ سادہ عوام ان حملوں سے بچاؤ کے لئے جیسے، تیسے خیرات کا بندوبست کر کے جان چھڑاتے ہیں۔ ایک شخص کے مرنے سے گھر میں قیامت ٹوٹ پڑتی ہے۔ بیوی، بیوہ اور بچے یتیم ہو جاتے ہیں، عزیزوں کی جدائی، رشتوں کی کٹائی اور مستقبل کی مایوسی۔ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ ان کو صبر کی تلقین کے ساتھ ساتھ ان کی ہر ممکن مدد کرے۔ لیکن ہمارے ہاں ظلم و جہالت کا یہ عالم ہے کہ اہل خانہ کی مدد تو کیا کریں گے ان پر اتنا مالی بوجھ ڈال دیتے ہیں کہ وہ اپنے عزیز کی جدائی کا صدمہ بھول جاتے ہیں۔ مہمانوں کی خدمت کا مسئلہ ان کے اعصاب پر بھوت بن کر سوار ہو جاتا ہے۔ ہمیں کوئی احساس نہیں کہ مرنے والے کے بعد اہل خانہ کے لئے کتنے مسئلے سر اٹھا چکے ہیں، ہمیں ان مسائل کی طرف بھی دھیان دینا چاہیے اور اہل میت کے کھانے کا انتظام ہمیں کرنا چاہیے نہ کہ وہاں سے کھانا چاہیے۔ حدیث مبارکہ میں ہے:

عَنْ عَبْدِ الله بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرٍ قَالَ رَسُولُ الله اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَقَدْ اَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ اَوْ اَمْرٌ يَشْغَلُهُمْ

حضرت عبد اللہ بن جعفر رضي اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر پہنچی تو رسول اللہ  صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا: جعفر کے گھر والوں کے لئے کھانا تیار کرو کہ ان پر صدمہ آیا ہے جس نے ان کی توجہ اس سے ہٹا دی ہے۔

احمد بن حنبل، 1: 205، رقم: 1751

ابن ماجہ، السنن، 1: 514، رقم: 1610

آج کل بعض شہروں میں کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں جو ایسے مواقع پر اہل میت کے لئے کھانا تیار کر کے حکم نبوی پر عمل کرتے ہیں۔ یونہی بعض حساس پڑوسی مسلمان اپنی طرف سے کھانے کا بندوبست کر دیتے ہیں، بلکہ کئی کئی دن تک اہل میت کے لئے کھانا بھیجا جاتا ہے۔ مقامی عزیزوں کو توویسے ہی اپنے گھروں پر کھانا کھانا چاہیے، ہاں وہ دور دراز سے آنے والے یا گھر والے اس سے فائدہ اٹھائیں گے، کم از کم اہل میت کو اس طرف سے تو پریشانی لاحق نہیں ہونی چاہیے۔ افسوس! کہ ہم نے اس حکم سے رو گردانی کر کے اہل میت کے لئے الٹے مسائل پیدا کر رکھے ہیں۔ امیر غریب سب کی دعوت عام کی جاتی ہے۔ استغفر اللہ۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ اگر یہ کھانا ایصال ثواب کے لئے ہے تو پھر بھی دیکھیں اس پر خرچ کس کا اٹھ رہا ہے؟ کیا یہ خیرات مرنے والے کے ترکہ سے ہے؟ اگر ایسا ہے تو خوب سمجھ لیجئے کہ مرنے والے کے کُل ترکہ سے پہلے میت کی تجہیز و تکفین کی جائے۔ پھر جو بچے اس سے اگر میت کے ذمہ قرض ہے تو وہ اتارا جائے۔ بقایا ترکہ میں سے میت کی وصیت پوری کی جائے جو کہ کُل ترکہ کی ایک تہائی سے زائد نہ ہو، اس کے بعد میت کے ترکہ میں تمام وارثوں پر مقرر تناسب سے تقسیم کیا جائے۔ میت کے تمام ترکہ میں تمام وارثوں کا حق ہوتا ہے، اور جب تک وہ تمام ورثاء اجازت نہ دیں آپ اس جائیداد میں کمی بیشی نہیں کر سکتے۔ لہٰذا اس غیر منقسم جائیداد میں سے وارثوں کی اجازت کے بغیر خیرات کرنا حرام ہے، اس میں کوئی ثواب نہیں۔ اگر اہل خانہ کسی وارث یا بچوں کا حق نہیں مارتے، اور اپنی جیب سے کرتے ہیں تو اس کی دو صورتیں ہیں:

  1. اگر خوشحال ہیں تو ایسے مواقع پر ایصال ثواب کے لئے کھانے پینے اور قرآن خوانی کا اہتمام کرنا نیکی ہے، غریب پروری ہے اس کا یقینا میت کو ثواب پہنچے گا۔
  2. اگر غریب و مساکین ہیں اور لوگوں کی دیکھا دیکھی یا عوام کے طعنوں سے بچنے کے لئے یا جھوٹی ناک بچانے کے لئے قرض لے کر یہ تقریبات انجام دیتے ہیں تو کوئی نیکی نہیں۔ یہ حماقت اور گناہ ہے۔

یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ میت کے نا بالغ بچے اہل ولایت نہیں وہ راضی خوشی اگر اجازت بھی دیں تو غیر منقسم ترکہ سے سوئم، چہلم وغیرہ پر وہ مال خرچ کرنا جائز نہیں۔ البتہ ورثاء بالغ ہیں، عقلمند ہیں، حاضر ہیں، اور خوشدلی سے ختم وغیرہ غیر منقسم ترکہ سے دلاتے ہیں تو جائز ہے۔ یہی صدقہ و خیرات کی تمام صورتیں ہیں چہلم وغیرہ پر دعوت نامے اور دوسرے تکلفات یہ سب جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی نت نئی ایجادات ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ غمی و خوشی کے مواقع پر اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلائیں۔ نقل اتارنا ہے تو نیک کاموں میں اتاریں، گناہوں میں دوسروں کی نقل نہ اتاریں۔ دوسروں کے محلات دیکھ کر اپنی جھونپڑی کو آگ نہ لگائیں اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت نصیب فرمائے۔

  1. اگرمیت صاف ستھری ہواور تلویث مسجد کا ڈر نہ ہو تو میت کی چارپائی مسجد میں رکھ سکتے ہیں، ورنہ نہیں۔
  2. اگر کوئی اور جگہ دستیاب نہ ہو اور تلویث مسجد کا بھی ڈر نہ ہو تو مسجد میں میت کو غسل دے سکتے ہیں۔ مسجد میں غسل دینے سے مراد وضو اور غسل خانے والی جگہ ہے نہ کہ مسجد کا ہال یا صحن۔ اگر خطرہ ہو کہ وہاں غسل دینے سے بھی مسجد میں بدبو پھیلے گی یا گندگی کا ڈر ہے تو پھر جائز نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2015-03-22


Your Comments