Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - حاملہ عورت کتنے ماہ تک پہلے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے؟

حاملہ عورت کتنے ماہ تک پہلے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے؟

موضوع: متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: شبیر حسن       مقام: گجرات، پاکستان

سوال نمبر 3037:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ حاملہ حمل ٹھہرنے کے بعد کتنے ماہ تک پہلے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے، جبکہ پہلے بچے کی عمر گیارہ ماہ ہے؟

جواب:

قرآن پاک میں ہے:

وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلاَدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ لاَ تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلاَّ وُسْعَهَا لاَ تُضَآرَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلاَ مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ فَإِنْ أَرَادَا فِصَالاً عَن تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا وَإِنْ أَرَدتُّمْ أَن تَسْتَرْضِعُواْ أَوْلاَدَكُمْ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُم مَّآ آتَيْتُم بِالْمَعْرُوفِ وَاتَّقُواْ اللّهَ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ.

اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو برس تک دودھ پلائیں یہ (حکم) اس کے لئے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے، اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور پہننا دستور کے مطابق بچے کے باپ پر لازم ہے، کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہ دی جائے، (اور) نہ ماں کو اس کے بچے کے باعث نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کے سبب سے، اور وارثوں پر بھی یہی حکم عائد ہوگا، پھر اگر ماں باپ دونوں باہمی رضا مندی اور مشورے سے (دو برس سے پہلے ہی) دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں، اور پھر اگر تم اپنی اولاد کو (دایہ سے) دودھ پلوانے کا ارادہ رکھتے ہو تب بھی تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ جو تم دستور کے مطابق دیتے ہو انہیں ادا کر دو، اور اﷲ سے ڈرتے رہو اور یہ جان لو کہ بیشک جو کچھ تم کرتے ہو اﷲ اسے خوب دیکھنے والا ہے۔

البقرۃ، 2 : 233

مذکورہ بالا آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ بچے کی پیدائش کے بعد دو سال تک دودھ پلائیں۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ پورے دو سال دودھ پلایا جائے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک بچے کے بعد کم از کم تین سال وقفہ بھی رکھا جائے کیونکہ بچہ پیدا کرنے کے بعد عورت بہت زیادہ کمزور ہو جاتی ہے اور پھر دودھ پلانے سے مزید کمزوری ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہم مسلمان قرآن وحدیث جیسی نعمتوں سے مالا مال ہونے کے باوجود ان کی تعلیمات سے دور ہیں۔ بڑا افسوس ہوتا ہے یہ سن کر جب ٹی- وی سکرین پر بیٹھ کر کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ ایک منہ اور دو ہاتھ لے کر پیدا ہوتا ہے اس لیے بچے زیادہ سے زیادہ ہونے چاہیں۔ لیکن ان کو یہ احساس نہیں کہ ایک بچہ اگر ان میں سے پیدا ہو تو ان کے چودہ طبق روشن ہو جائیں۔ وجہ یہ نہیں ہے کہ بچے زیادہ ہونے سے ان کو کھانے کے لیے کچھ نہیں ملے گا۔ اللہ کے بندو! یہ بھی سوچ لیا کرو ایک بچہ پیدا کرنے کے بعد عورت موت کے منہ سے ہو کر آتی ہے۔ کم از کم اسے ہوش میں تو آنے دیا جائے پھر دوسرا بچہ پیدا کیا جائے۔ ایک بچہ سال کے پہلے مہینے میں پیدا ہوتا ہے دوسرا اسی سال کے آخری مہینے میں پیدا ہو جاتا ہے پھر یہ کہتے ہیں۔ اللہ تعالی دے رہا ہے نا۔ خدا کے لیے اس کا بھی کچھ خیال کر لیں جس میں سے پیدا ہو رہے ہیں۔

حمل ٹھہرنے کے بعد جب تک ممکن ہو پہلے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں
خاندانی منصوبہ بندی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-02-05


Your Comments