Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا طلاق نامہ پر شوہر کے دستخط ہونے ضروری ہیں؟

کیا طلاق نامہ پر شوہر کے دستخط ہونے ضروری ہیں؟

موضوع: طلاق

سوال پوچھنے والے کا نام: نازیہ       مقام: پاکستان

سوال نمبر 3017:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ میری اپنے خاوند سے علیحدگی ہو چکی ہے۔ میرے خاوند نے عدالتی کاروائی سے بچنے کے لیے اپنے دوست کے ذریعے ساز باز کر کے طلاق نامہ تیار کروایا تھا۔ جس پر دستخط بھی میرے خاوند کے نہیں بلکہ کسی اور کے تھے۔ مزید یہ کہ وہ طلاق نامہ میرے خاوند کی عدم موجودگی میں تیار ہوا تھا۔ اور وہ طلاق نامہ نہ ہی مجھے اور نہ ہی یو نین کونسل کو موصول ہوا ہے۔ میں نے وہ طلاق نامہ چیلنج کیا تھا کیونکہ وہ قانون کے تقاضوں کے خلاف تیار ہوا تھا۔ اور عدالتی حکم بھی یہ ہی ہے کہ طلاق نامہ مسلم فیملی لاء کے بر عکس تیار ہوا ہے لہذا اس کو خارج کیا جائے۔ کیا اس طریقے سے تیار کیے گئے طلاق نامے سے طلاق ہو جاتی ہے؟ میرے خاوند نے ابھی مجھےباقاعدہ طلاق نہیں دی۔

جواب:

آپ کے خاوند نے اگر آپ کو زبانی طلاق دی ہے تو بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ طلاق نامہ تیار کروانے کی ضرورت تو قانونی کاروائی کے لیے ہوتی ہے۔ اگر آپ کا خاوند کہتا ہے کہ اس نے آپ کو زبانی طلاق بھی نہیں دی اور یہ طلاق نامہ تیار کرنے یا کروانے کی بھی کسی کو اجازت نہیں دی پھر طلاق واقع نہیں ہوئی۔ اگر اس نے خود تو تیار نہیں کروایا لیکن کسی کے ذمہ لگایا کہ اس میں اتنی طلاقیں لکھوا دیں۔ یا اس طلاق نامہ کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ درست ہے اس میں جو کچھ لکھا ہوا ہے یہ سچ ہے تو پھر بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

یونین کونسل یا آپ کو طلاق نامہ موصول نہ ہونے سے طلاق واقع ہونے میں کوئی فرق نہیں آتا بات تو آپ کے خاوند کی ہے اس سے پوچھیں کہ اس نے طلاق خود لکھی، لکھوائی یا طلاق نامہ کی تصدیق کی ہے کہ نہیں؟ اگر اس نے طلاق دے دی ہے تو ہو گئی ہے۔ لہذا آپ لوگ میاں بیوی بذریعہ فون یا خود آفس میں آ کر پوری بات بتائیں شاید کوئی بچت کی راہ نکل آئے کیونکہ ہمیں یہ معلوم نہیں اس نے کیا الفاظ لکھے یا بولے ہیں یا پھر لکھوائے ہیں؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-01-10


Your Comments