Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کسی ملازم کا بروقت کام پر نہ آنے سے کیا اس کی کمائی حرام ہو گی؟

کسی ملازم کا بروقت کام پر نہ آنے سے کیا اس کی کمائی حرام ہو گی؟

موضوع: حرام

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد آصف جاوید       مقام: فیصل آباد

سوال نمبر 2993:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا سرکاری استاد کی کمائی حرام ہو گی اگر وہ بچوں کو پڑھاتا ہے تو صحیح ہے مگر اکثر مجبوری کی وجہ دیر سے سکول جاتا ہے اور اس طرح کے کام ہیں؟

جواب:

کسی بھی ادارے کے ساتھ آپ کا جتنے وقت کے لیے معاہدہ ہے اگر آپ اس کو اتنا وقت نہیں دیتے۔ اس کے قوانین کے مطابق نہیں چلتے تو وہ کمائی جائز نہیں ہو گی۔ چونکہ کوئی مجبوری ہو تو سرکاری ادارہ ہو یا پرائیویٹ سالانہ چھٹیاں ہوتی ہیں۔ اسی طرح کبھی کبھار کوئی کام پڑ جائے تو سربراہ ادارہ کو اطلاع کر کے کچھ وقت کے لیے جانے کی اجازت بھی ہوتی ہے لیکن مستقل ہی دیر سے آنا اور وقت سے پہلے ہی چلے جانے کی اجازت تو نہیں ہوتی۔ لہذا جو طے ہے اس کے مطابق ہی آنا جانا ضروری ہے، کم وقت دینا جائز نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-01-10


Your Comments