Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا نقدی 9 ڈالر کو ادھار 10 دس ڈالر میں بیچ سکتے ہیں؟

کیا نقدی 9 ڈالر کو ادھار 10 دس ڈالر میں بیچ سکتے ہیں؟

موضوع: معاملات  |  خریدو فروخت (بیع و شراء، تجارت)

سوال پوچھنے والے کا نام: باسط امین       مقام: لاہور

سوال نمبر 2985:
السلام و علیکم میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں، سوال یہ ہے کہ کوئی شخص ایک ماہ کے کریڈٹ پہ مارکیٹ سے ایک شے 10 ڈالر میں خریدتا ہے حالانکہ نقد کی صورت میں اسے شے کی قیمت 9 ڈالر ہے۔ کیا یہ جائز ہوگا؟ کہیں یہ سود کے زمرے مین تو نہیں آتا؟

جواب:

اگر کسی چیز کی قیمت 9 ڈالر ہو تو اس کو ادھار دیتے وقت یہ طے کیا جائے کہ اس کی قیمت 10 ڈالر ہو گی۔ ایسا کرنا جائز ہے۔ یعنی 9 ڈالر کسی کو ادھار دے کر 10 ڈالر وصول نہیں کیے جا رہے ہیں بلکہ سودا طے پا رہا ہے کہ یہ چیز ہے اس کی قیمت بعد میں دی جائے گی چیز ابھی وصول کی جائے گی۔ اس میں گاہک کے لیے آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں
کیا ادھار فروخت کرنے کی صورت میں زیادہ رقم وصول کرنا جائز ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-01-02


Your Comments