کیا نوجوان لڑکے کا شادی نہ کرنا کبیرہ گناہ ہے؟

سوال نمبر:2969
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا نوجوان لڑکے کا شادی نہ کرنا کبیرہ گناہ ہے؟

  • سائل: کلیم اللہ سنگراسیمقام: تھرپارکر ارنیارو، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 03 دسمبر 2013ء

زمرہ: نکاح

جواب:

جب کوئی نوجوان مالی طور پر بھی اس قابل ہو کہ بیوی کا نان نفقہ ادا کر سکتا ہے اور جسمانی طور پر بھی اس قابل ہو کہ بیوی کے حقوق پورے کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہوتو اس پر شادی کرنا فرض ہے۔ ایسا بندہ شادی نہ کرے تو اس پر گناہ ہے کیونکہ اگر اس سے گناہ سرزد ہو جائے تو گناہ کبیرہ ہی ہو گا۔ فرض ادا نہ کرنا گناہ کبیرہ ہے۔

جو جسمانی طور پر شادی کرنے کی صلاحیت بھرپور رکھتا ہو لیکن اس کے پاس نان نفقہ کےلیے کچھ نہ ہو تو اسے شادی کی بجائے روزے رکھنے چاہیں۔ جو مالی طور پر تو صلاحیت رکھتا ہو لیکن جسمانی طور پر شادی کے قابل نہ ہو تو اس پر شادی کرنا حرام ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟