Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا قربانی کے جانور گائے میں سے 6 حصے ہو سکتے ہیں؟

کیا قربانی کے جانور گائے میں سے 6 حصے ہو سکتے ہیں؟

موضوع: عبادات  |  قربانی   |  مسائل قربانی

سوال پوچھنے والے کا نام: محمود عالم       مقام: اٹک، پاکستان

سوال نمبر 2899:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا قربانی کے جانور گائے میں سے 6 حصے ہو سکتے ہیں؟

جواب:

ایک بڑے جانور مثلا گائے، بھینس اور اونٹ میں سات قربانیاں ہوتی ہیں۔ سات افراد ایک ایک حصہ ڈال لیں یا پھر سات سے کم لوگ ہوں تو وہ قربانی کے اعتبار سے حصے اس طرح ڈالیں کہ ایک بندہ ایک حصہ، دو حصے یا تین حصے یا چار حصے یا پانچ حصے یا چھ حصے یا پھر پورا جانور یعنی چھ لوگ کر رہے ہیں تو ایک بندہ دو حصے ڈال لے اور باقی ایک ایک تاکہ کوئی حصہ ساتویں (1/7) سے کم نہ ہو۔ مراد یہ ہے کہ کوئی سوا، ڈیڑھ یا پونے دو قربانیاں نہیں کرے گا۔ جو بھی کرے مکمل ایک، دو یا اس سے زائد قربانیاں کرے۔ اسی طرح ایک بڑے جانور میں پانچ بندے حصہ ڈالیں تو ایک ایک تو سب کو مکمل قربانی آ جائے گی باقی دو سب پر تقسیم نہیں کی جائیں گی۔ ان دو کو کسی ایک کے ذمہ لگا دیں یا دو بندے دو دو کر لیں۔ اسی طرح ایک بڑے جانور کو دو بندے مل کر قربانی کریں تو ایک بندہ چار حصے کر لے ایک تین، ساڑھے تین تین نہیں کریں گے۔ المختصر یہ کہ جو بھی کرے مکمل قربانیاں کرے، ایک، دو یا زیادہ جتنی بھی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-10-14


Your Comments