اسلام میں جہاد کا عمومی تصور کیا ہے؟


سوال نمبر:286
اسلام میں جہاد کا عمومی تصور کیا ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 24 جنوری 2011ء

زمرہ: معاملات  |  معاملات

جواب:

جہاد سے مراد کسی نیک کام میں انتہائی طاقت و کوشش صرف کرنا اور ہر قسم کی تکلیف اور مشقت برداشت کرنا ہے۔ امام راغب اصفہانی جہاد کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

اَلْجِهَادُ والْمُجَاهَدَةُ : اِسْتِرَاغُ الْوُسْعِ فِيْ مُدَافَعَةِ العُدُوِّ.

’’دشمن کے مقابلہ و مدافعت میں فوراً اپنی پوری قوت و طاقت صرف کرنا جہاد کہلاتا ہے۔‘‘

راغب الصفهانی، المفردات : 101

جدید عصری تقاضوں، معروضی حالات، جہاد کی مختلف جہات، اقسام اور ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری جہاد کی مختصر اور جامع تعریف یوں فرماتے ہیں :

’’دینِ اسلام کی اشاعت و ترویج، سربلندی و اعلاء اور حصولِ رضائے الٰہی کے لئے اپنی تمام تر جانی، مالی، جسمانی، لسانی اور ذہنی صلاحیتوں اور استعدادوں کو وقف کرنا جہاد کہلاتا ہے۔‘‘

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔