Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - زیادہ عمر کی لڑکی سے مرد نکاح کیوں‌ نہیں‌ کرتے؟

زیادہ عمر کی لڑکی سے مرد نکاح کیوں‌ نہیں‌ کرتے؟

موضوع: نکاح   |  معاملات

سوال پوچھنے والے کا نام: سعدیہ       مقام: انڈیا

سوال نمبر 2827:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ اگر لڑکی کی عمر زیادہ ہو تو مرد نکاح نہیں کرتے اور اس کے برعکس اگر لڑکی کی عمر لڑکے سے کم ہو، تو مردوں سےکوئی نہیں پوچھتا، ایسا کیوں ہے؟ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سیرت پر کتابیں تو بہت لکھتے ہیں اہل سنت کا دعوی بھی کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ مگر عمل نہیں کرتے۔ یا تو کسی کو پتہ نہیں کہ شادی کے وقت آپ کی عمر اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک کیا تھی؟ برائے مہربانی عوام کو سمجھائیں شعور دیں۔ شکریہ

جواب:

قرآن وحدیث میں جو رشتے بیان کیے گئے ہیں کہ ان ان عورتوں کے ساتھ نکاح نہیں ہو سکتا۔ اس میں کہیں بھی یہ شرط نہیں لگائی کہ اگر اتنی عمر کی لڑکی ہو تو اس کے ساتھ فلاں عمر کے لڑکے کا نکاح جائز نہیں۔ لہذا اسلام نے کوئی پابندی نہیں لگائی ہے، عمر کے حوالے سے یہ ضرور ہے کہ لڑکا لڑکی دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہوں۔ اس لیے اسلام نے تو دونوں کی باہمی رضا مندی کی شرط لگائی ہے۔ عمر میں کم بیشی کے پیش نظر اگر دونوں میں ہم آہنگی پائی جاتی ہو اور دونوں ایک دوسرے کو چاہتے ہوں تو نکاح کر سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ورنہ دونوں کو آزادی ہے اگر وہ نہیں کرنا چاہتے تو انکار کر دیں۔ لڑکی کو لڑکا پسند نہ ہو انکار کر دے اسلام نے اجازت دی ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ سے ہمیں دونوں طرح کی مثالیں ملتی ہیں۔ 25 سال کی عمر مبارک میں 40 سالہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہما سے شادی کرنے کی مثال بھی اور پھر تقریبا 53 سال کی عمر مبارک میں تقریبا 19 سالہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما سے شادی کرنے کی بھی۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں
لڑکے اور لڑکی کا شادی سے پہلے ایک دوسرے کو دیکھنا کیسا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-09-23


Your Comments