Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا عورت محرم کے بغیر حج کرسکتی ہے؟

کیا عورت محرم کے بغیر حج کرسکتی ہے؟

موضوع: عمرہ   |  حج

سوال نمبر 279:
کیا عورت محرم کے بغیر حج کرسکتی ہے؟

جواب:
’’بالکل نہیں حج یا عمرہ کی ادائیگی کے لیے عورت کے ہمراہ شوہر یا محرم کا ہونا شرط ہے خواہ وہ عورت جوان ہو یا بڑھیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

لَا يَحِلُّ لِامْرَة، تُؤْمِنُ بِاﷲِ والْيَوْمِ الآخِرِ، أنْ تُسَافِرَ مَسِيْرَة يَوْمٍ وَ لَيْلَة لَيْسَ مَعَهَا حُرْمَة.

(بخاری، الصحيح، أبواب تقصير الصلة، 1، 369، رقم : 1038)

’’کسی عورت کے لئے جائز نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ اور آخری دن پر ایمان رکھتی ہو کہ ایک دن کا سفر کرے اور اس کے ساتھ اس کا محرم نہ ہو۔‘‘

محرم سے مراد وہ مرد ہے جس سے ہمیشہ کے لئے اس عورت کا نکاح حرام ہے خواہ نسب کی وجہ سے نکاح حرام ہو جیسے باپ، بیٹا، بھائی وغیرہ یا دودھ کے رشتہ سے نکاح کی حرمت ہو جیسے رضاعی بھائی، باپ، بیٹا وغیرہ یا سسرالی رشتہ سے حرمت آئی جیسے خسر، شوہر کا بیٹا، شوہر یا محرم جس کے ساتھ سفر کرسکتی ہے لیکن اس کا عاقل بالغ اور غیر فاسق ہونا شرط ہے۔ مجنون یا نابالغ یا فاسق کے ساتھ بھی عورت سفر پر نہیں جاسکتی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments