Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا ولیمے میں‌ رشتہ داروں کو بلانا ضروری ہوتا ہے؟

کیا ولیمے میں‌ رشتہ داروں کو بلانا ضروری ہوتا ہے؟

موضوع: ولیمہ   |  رشتہ داروں کے حقوق و فرائض

سوال پوچھنے والے کا نام: ذیشان علی       مقام: وہاڑی

سوال نمبر 2789:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ غربت کی وجہ سے میں نے اپنی شادی انتہائی سادگی سے کر دی ہے اور ولیمے کا کھانا غریب لوگوں کو کھلایا۔ رشتہ دار کہتے ہیں کہ تمہاری شادی جائز نہیں ہے۔ کیو نکہ وہ ولیمے میں شریک نہیں تھے۔ اس صورت میں میرے لئے کیا حکم ہے؟

جواب:

شادی جائز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ عاقل بالغ مسلمان لڑکا اور مسلمان، یہودی یا عیسائی لڑکی جو محرمات میں سے نہ ہو، دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کریں اور لڑکا حق مہر ادا کرے تو نکاح قائم ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں دونوں ایک دوسرے کے لیے جائز ہو جاتے ہیں۔ ہاں اگر لڑکا طاقت رکھتا ہو تو ولیمہ بھی کرے کیونکہ ولیمہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور اگر طاقت نہیں رکھتا تو ولیمہ نہ کرے پھر بھی شادی جائز ہے۔ لہذا آپ رشتہ داروں کے کہنے کی کوئی فکر نہ کریں اگر شادی اسلامی قوانین کے مطابق ہوئی ہے تو درست ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-09-09


Your Comments