کیا ولیمے میں‌ رشتہ داروں کو بلانا ضروری ہوتا ہے؟

سوال نمبر:2789
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ غربت کی وجہ سے میں نے اپنی شادی انتہائی سادگی سے کر دی ہے اور ولیمے کا کھانا غریب لوگوں کو کھلایا۔ رشتہ دار کہتے ہیں کہ تمہاری شادی جائز نہیں ہے۔ کیو نکہ وہ ولیمے میں شریک نہیں تھے۔ اس صورت میں میرے لئے کیا حکم ہے؟

  • سائل: ذیشان علیمقام: وہاڑی
  • تاریخ اشاعت: 09 ستمبر 2013ء

زمرہ: ولیمہ   |  رشتہ داروں کے حقوق

جواب:

شادی جائز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ عاقل بالغ مسلمان لڑکا اور مسلمان، یہودی یا عیسائی لڑکی جو محرمات میں سے نہ ہو، دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کریں اور لڑکا حق مہر ادا کرے تو نکاح قائم ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں دونوں ایک دوسرے کے لیے جائز ہو جاتے ہیں۔ ہاں اگر لڑکا طاقت رکھتا ہو تو ولیمہ بھی کرے کیونکہ ولیمہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور اگر طاقت نہیں رکھتا تو ولیمہ نہ کرے پھر بھی شادی جائز ہے۔ لہذا آپ رشتہ داروں کے کہنے کی کوئی فکر نہ کریں اگر شادی اسلامی قوانین کے مطابق ہوئی ہے تو درست ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟