نکاح سے قبل لڑکے لڑکی کا ملنا کیسا ہے؟

سوال نمبر:2782
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ اگر لڑکا اور لڑکی نکاح سے پہلے ایک دوسرے کو ملتے ہیں ان کو یقین ہے کہ ان کی شادی آپس میں ہو گی تو کیا ان کا ملنا جائز ہے؟ نکاح کے بعد ان کو کسی نے بتایا کہ قبل از نکاح ملنا درست نہیں تھا۔ اب ان کے لئے کیا حکم ہے، دونوں اپنے کیے پر شرمندہ ہیں۔ (نکاح سے قبل اس طرح کا تعلق نہیں تھا جس سے حمل ٹھہرے)

  • سائل: نامعلوممقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 09 ستمبر 2013ء

زمرہ: نکاح

جواب:

نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی والدین کی موجودگی میں پسند کی خاطر ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں مگر اکیلے نہیں مل سکتے۔ اگر اکیلے ملیں گے تو حرام کریں گے۔ جیسا کہ آپ خود ہی اس بات کا اعتراف بھی کر رہے ہیں کہ آپ نے اچھا نہیں کیا۔ اللہ تعالی سے معافی مانگیں اور آئندہ کے لیے پرہیز کریں۔ المختصر نکاح سے پہلے لڑکے لڑکی کا اکیلے ملنا حرام ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟