Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا احرام باندھنے کے بعد نفل کسی بھی وقت ادا کیے جا سکتے ہیں؟

کیا احرام باندھنے کے بعد نفل کسی بھی وقت ادا کیے جا سکتے ہیں؟

موضوع: احرام   |  نفل  |  عبادات

سوال پوچھنے والے کا نام: حاجی محمد بوستان       مقام: سعودی عرب

سوال نمبر 2770:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ نوافل بعد میں کس وقت پڑھنے چاہیں، اس میں‌ مسئلہ یہ ہے کہ میقات پہ گاڑی والا انتظار نہیں کرتا تو میقات سے آگے نوافل پڑھے بغیر جا سکتے ہیں اور احرام کے نوافل حرم یا راستے میں جب وقت ہو جائے پڑھ لیں۔ کیوں‌ کہ احرام کے نوافل کے بعد ہی عمرے کی نیت کی جاتی ہے۔ اور اس طرح عمرے کے طواف کے بعد بھی سعی اور حلق کے بعد بندہ طواف والے نوافل پڑھے؟ دونوں کے تفصیل سے جواب دیں کہ پھر اگر بعد میں‌ ہی پڑھنے ہیں تو کس وقت پڑھنے چاہیے؟

جواب:

سب سے بہتر تو یہ ہے کہ میقات سے پہلے ہی احرام باندھ لیا جائے۔ جیسے پاکستان سے نکلتے وقت احرام باندھ لیا جائے۔ تاکہ نوافل بھی ممنوعہ وقت سے پہلے یا بعد میں پڑھ لیے جائیں۔ اگر عصر کی نماز کا وقت ہو جائے اور آپ نے ابھی فرض ادا نہ کیے ہوں تو پہلے نوافل پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن فجر کا وقت شروع ہونے سے طلوع آفتاب تک نوافل نہیں پڑھ سکتے۔ بہرحال نوافل رہ بھی جائیں تو حج عمرہ ہو جاتا ہے، مگر جان بوجھ کر نہ چھوڑے مجبوری کی وجہ سے رہ جائیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔ طواف کعبہ اور صفا مروہ کے چکر لگانے کے بعد نوافل پڑھ لے یا حلق کروانے کے بعد کوئی حرج نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-09-09


Your Comments