Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - حج قران اور حج تمتع کے بارے میں‌ بتائیں؟

حج قران اور حج تمتع کے بارے میں‌ بتائیں؟

موضوع: عبادات  |  حج  |  حج قران   |  حج تمتع

سوال پوچھنے والے کا نام: سید وجاہت علی       مقام: انڈیا

سوال نمبر 2754:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ حج قران اور حج تمتع کے بارے میں‌ تفصیل سے مع حوالہ جواب دیں؟

جواب:

حج قران سے مراد حج اور عمرے کا ایک ساتھ احرام باندھ کر دونوں کے ارکان کو ادا کرنے کا نام قران ہے، عازم حج مکہ پہنچ کر پہلے عمرہ کرتا ہے پھر اسی احرام میں اسے حج ادا کرنا ہوتا ہے۔ اس دوران احرام میلا یا ناپاک ہونے کی صورت میں تبدیل تو ہو سکتا ہے مگر جملہ پابندیاں برقرار رہیں گی۔

حج تمتع سے مراد ایسا طریقہ حج جس میں حج اور عمرہ کو الگ الگ ادا کیا جاتا ہے اور اس صورت میں مکہ مکرمہ میں عمرہ ادا کرنے کے بعد عازم حج احرام کی حالت سے باہر آ سکتا ہے۔ اس طرح اس پر آٹھ ذوالحجہ یعنی حج کے ارادے سے احرام باندھنے تک احرام کی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ آٹھ ذوالحجہ سے حج کے لیے دوسرا احرام باندھنا پڑتا ہے۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں
حج اور عمرہ (فضائل ومسائل)

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-10-14


Your Comments