والدین سے تعلقات کو کیسے بہتر بنایا جائے؟

سوال نمبر:2740
السلام علیکم میری شادی کو آٹھ سال ہو گئے ہیں، سسرال میں کوئی جھگڑے نہیں تھے، ہم پاکستان سے باہر رہتے ہیں، سالوں بعد جاتے ہیں، کچھ سال پہلے میرے دیور کی شادی ہم نے لاکھوں روپیہ لگا کے کی، پر وہ پھر بھی خوش نہ ہوا اور کہا مجھے باہر بلاؤ پچیس لاکھ کی نشنیلٹی خریدی میرے شوہر نے، جس کی وجہ سے ہمارے حالات پر بھی اثر پڑا اور ہم میاں بیوی کے جھگڑے ہوئے، وجہ صرف یہ تھی کہ اللہ نے ہمیں چھ سال بعد بیٹی دی اور اس کی پہلے عید پہ اس کو کپڑے تک نہیں لے کے دیئے میں نے سسرال بتایا تو وہ الٹا ہو گئے کہ میں اپنے شوہر کو ان کے ساتھ کرتا نہیں دیکھ سکتی سب میرے خلاف ہو گئے، میری شادی خاندان سے باہر ہوئی ہے اور ان لوگوں میں باہر شادی کو اچھا نہیں سمجھتے اور زیادہ لوگ ان پڑھ ہیں اور کہتے ہیں کے پڑھی لکھی لڑکی سے شادی نہیں کرنی چاہیے کیوں کہ پڑھے لکھے لوگ بیوقوف ہوتے ہیں پھر بھی میرے شوہر نے مجھ سے شادی کی کیوں کہ میرے شوہر باہر رہتے ہیں اور ان کی سوچ کچھ بہتر ہو گئی تھی اب مسلہ یہ ہے کے میرا دیور کام نہیں کرتا تھا گھر کا سارا خرچ میرے شوہر اٹھاتے تھے مگر اب ہمارے خرچے بھی بڑھ گئے ہیں پہلے بھی میں نے کبھی ان سے سوال نہیں کیا کے اپ نے کیا بھیجا کیا نہیں صرف اس لیے کے میرے حقوق پورے ہیں میں دخل کیوں دوں۔ پر پھر بھی ان کے دل میں یہ کے میں پرائی ہوں دل سے ان سے مخلص نہیں اللہ جانتا ہے میں نے اپنی سمجھ سے ان کے دل صاف کرنے کی بہت کوششیں کی پر ناکام رہی جب دیور کی شادی ہوئی تو دیورانی بھی ان پڑھ گھر کی ہے اس لیے اس کو اچھا سمجھتے ہیں اس کے گھر آتے ہیں گھر کا رخ بدل گیا اور اتنا جھوٹ بولتی ہے سب کو لڑانے کے لیے اور ہر بات میں مجھ سے مقابلہ کے یہ باہر ہے اور میں پاکستان ہوں اس کے کپڑے مجھ سے اچھے کیوں ہیں ہر چھوٹی سے چھوٹی بات پر مقابلہ میری ساس نے ایک دن فون کیا اور کہا کے دیور کے بیوی کو کپڑے لے کے دو تو میرے شوہر غصہ ہو گئے کے میں کیوں لے کے دوں اس کے شوہر کو کہو۔ سب نے اس کا الزام بھی مجھے دیا کے اس نے لڑایا ہے۔ اب یہ باتیں ساتھ ہیں نیا مسلہ یہ ہے کے دیورانی نہیں چاہتی کے میں پاکستان آؤں جب بھی جاتی ہوں ہر بات پہ جھگڑے کے بہانے اور جھوٹ بول بول کے ساس سسر کو بھی ہمارے خلاف کر دیا۔ وہ پہلے ہی سمجھتے تھے کے میں ان کی اپنی نہیں اس لیے اچھی بھی نہیں ان کی شادی کے بعد 2 بار پاکستان گئی ہوں اور جھگڑے سے تنگ اپنی امی کے گھر اور ادھر سے واپس آئی کوئی ایرپورٹ تک نہی ملنے آیا اس بات سے میرے میکے میں بھی سب باتیں کرتے ہیں اور امی ابو کو شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔ ان کا کردار ایسا ہے کے مجھ سے ذرا سی غلطی ہو جائے تو سارے خاندان میں بتاتے ہیں اور سب سےفون کرواتے ہیں کے اس کو سمجھاؤ اور خود میرے امی کے ماموں فوت ہوئے افسوس نہیں کیا۔ میری پھوپھی کی وفات ہوئی کسی نے دو لفظ ابو سے افسوس نہیں کیا۔ اس بار جب میں پاکستان گئی میرے شوہر نے کہا زیادہ رہ لو اتنا مہنگا ٹکٹ ہے بار بار نہیں آیا جاتا اور بیٹی کو لے کے پہلی بار گئی تھی اس لیے بھی میرا دل رہنے کو تھا ایک ماہ کے بعد شوہر واپس آ گئے اور ان کے آتے ہی بات بے بات جھگڑا شروع ساس اور دیورانی کا گروپ بن گیا مجھے کام نہ کرنے دے اور بار بار کہے چلی جاؤ میں نے تنگ آ کے شوہر کو بتایا تو انہوں نے کہا برداشت کرو ہماری شادی کے آٹھ سال میں شوہر دیکھتے سب رہے پر کبھی ان کو کہا نہیں کہ ماں باپ کو کے گناہگار ہونگا۔ اب جب یہ حالات بنے تو ان کو دکھ ہوا کے کم سے کم میری بیٹی تو ان کی پوتی ہے۔ اس سے فرق تو نہ کریں دیورانی کا بیٹا ہے اور وہ اس وجہ سے اس کو آگے اور مجھے کم سمجھتے ہیں، اس پر میرے شوہر کی برداشت بھی جواب دے گئی۔ ایک تو وہ خود بھی تنگ تھے دوسرا ان کو اپنے سسرال کے سامنے شرمندگی ہوتی تھی۔ انہوں نے غصے میں مجھے کہا کے تم اپنی امی گھر جاو اور ادھر سے واپیس آ جاؤ۔ اس بات پر میری ساس لڑ پڑی کے بیوی کا غلام ہے اور ان کے سب گھر والے بھی ان سے ناراض ہو گئے ہیں، کہتے ہیں صرف بیٹا ہم سے تعلق رکھے اور میرے شوہر کہتے ہیں میں نے اپنی بیوی کو آپ سے برا سلوک کرتے نہیں دیکھا آٹھ سال آپ نے جو کہا میں نے چپ چاپ سہا اللہ کے ڈر سے اب یہ تماشا ختم کریں۔ تو انکا کہنا تھا یہ تو منافق ہے اندر کوھڑی ہے جھوٹی ہے جب پاکستان آئے آرام سے رہنے دیں اور میری بیوی سےبھی صلح کریں۔ مفتی صاحب میں اکیلی بیٹھ کے کئی بار سوچتی ہوں کے میں نے کیا غلطی کی پر مجھے ایک بات نہیں ملتی جس میں میں نے پہل کی ہو اور اس ناراضگی کو ایک سال ہونے کو ہے اور وہ صلح کی طرف نہیں آ رہے۔ میرے شوہر ہر وقت پریشان ہیں اور ساس چاہتی ہے کے صرف بیٹے سے تعلق رہے۔ میں اب تنگ آ گئی ہوں دل کرتا ہے اب میں بھی ان سے تعلق ختم کر دوں اپنے شوہر اور میکے سے تعلق رکھوں۔ ان کو فرق نہیں پڑتا تو مجھے کیوں؟ سوچ سوچ کے میں چڑچڑی ہو گئی ہوں کیا اب الگ گھر لے سکتے ہیں، تاکہ کبھی پاکستان جائیں تو سکھ سے رہنا نصیب ہو؟ سسرال والوں کا کہنا ہے ایسا کرنے کا مطلب ہے بیوی کی طرف داری اس طرح بیٹا جہنمی ہو گا میں ذہنی مریض وہ گئی ہوں۔ خدارا کوئی حل بتائیں جلدی اور دعا بھی فرما دیں۔ جزاک اللہ خیر

  • سائل: نا معلوممقام: نا معلوم
  • تاریخ اشاعت: 09 ستمبر 2013ء

زمرہ: والدین کے حقوق

جواب:

آپ کے سسرال والے اگر اچھا نہیں سمجھتے تو آپ لوگ الگ گھر لے لیں۔ آپ کا شوہر اپنے والدین کی خدمت بھی کرے، انہیں ملتا رہے اور ان کی ضروریات بھی پوری کرے، وہ چاہے ناراض بھی ہوتے رہیں لیکن وہ والدین سے ناراض نہ ہو۔ آپ اپنا فرض نبھاتے رہیں، آپ پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ بیوی کے حقوق پورے کرنا بھی خاوند کا فرض ہے اور والدین کے بھی۔ جو جائز کام ہو وہ اس میں اپنے والدین کی بات مانے، فرمانبرداری کرے لیکن ناجائز کاموں میں والدین کی بات نہ مانے۔ اگر والدین یہ ڈیمانڈ کریں کہ آپ کا شوہر آپ پر ظلم کرے، آپ کے حقوق پورے نہ کرے تو اس طرح کے معاملات میں وہ والدین کی بات نہ مانے، اسے کوئی گناہ نہیں ہے۔ لہذا آپ کا شوہر نہ والدین سے برا سلوک کرے نہ آپ سے۔ جائز باتیں مان لے، ناجائز باتوں پر عمل نہ کرے، کوئی گناہ نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟