Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا مشروط طلاق میں‌ عرف عام کے الفاظ کا معنی لیا جائے گا؟

کیا مشروط طلاق میں‌ عرف عام کے الفاظ کا معنی لیا جائے گا؟

موضوع: طلاق

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد مشتاق رضا گولڑوی       مقام: گجرات، پاکستان

سوال نمبر 2721:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ حضور اس مسئلہ کے بارے میں وضاحت طلب ہے کہ زید نے حلف اٹھایا طلاق معلق کی صورت مٰیں وہ یہ کہ اگر میں نے فلاں کے گھر اگر غمی خوشی میں آیا گیا تو میری بیوی مجھ پر طلاق۔۔۔۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح کے الفاظ زید کے ہاں عرف میں یہ مراد لیے جاتے ہیں کہ میرا پورا گھرانہ اس کے گھر میں نہیں جائے گا۔۔۔ اور انہی الفاظ میں زید کے ہاں یہ بھی عرف ہے کہ صرف زید کی ذات مراد ہو اس کا پورا گھرانہ مراد نہ ہو۔ حضور ایسی صورت حال میں کیا زید اکیلا اس کے گھر جائے گا تب حانث ہو گا۔ گھر کا کوئی فرد بھی جائے گا زید حانث ہو جائے گا؟

جواب:

اس سے دوسرے گھر والوں کا کوئی تعلق نہیں ہے اس نے جب کہا ہے (اگر میں فلاں کے گھر غمی خوشی میں آیا گیا) مراد وہ اکیلا ہی ہو گا۔ جب بھی وہ ان کے گھر جائے گا اس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-08-24


Your Comments