Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا ڈبل قیمت پر ادھار سامان دینا جائز ہے؟

کیا ڈبل قیمت پر ادھار سامان دینا جائز ہے؟

موضوع: خریدو فروخت (بیع و شراء، تجارت)   |  معاملات

سوال پوچھنے والے کا نام: اکرام اللہ       مقام: ڈی ائی خان، پاکستان

سوال نمبر 2720:
السلام و علیکم مفتی صاحب میری آپ سے ایک گزارش ہے کہ ہمارے گاؤں کے بہت سے لوگ ایک سال کے ادھار پر سامان دیتے ہے لیکن قیمت ڈبل ہوتی ہے اس بات پر میں پریشان ہوں کہ کیا یہ گناہ تو نہیں؟ لیکن سال کے بعد جب آپ پیسے لینے جاتے ہو تو اس طرح بھی ہوتا ہے کہ بہت سارے لوگ گھر چھوڑ کر ہی جا چکے ہوتے ہیں۔

جواب:

ہمیں اللہ تعالی سے ڈرنا چاہیے اور کسی پر اتنا ظلم نہیں کرنا چاہیے۔جو طریقہ کار آپ نے بتایا ہے یہ غلط ہے۔ ادھار سامان دیتے وقت اصل قیمت سے زیادہ دینا جائز ہے لیکن وہ اتنا ہی ہونا چاہیے کہ اصل قیمت کا دو چار فیصد اضافی ہو۔ ڈبل قیمت لینا تو سراسر ظلم وزیادتی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-08-22


Your Comments