عشاء کے فرض رہ جائیں‌ تو کیا تروایح میں‌ شامل ہو سکتے ہیں؟

سوال نمبر:2713
السلام علیکم محترم مفتی صاحب اگر کسی کے رمضان المبارک میں عشاء کے فرض رہ گئے تو کیا وہ تراویح میں براہ راست شامل ہو سکتا ہے یا عشاء کے فرائض اور دو سنتوں کی اولاً تکمیل لازم ہے، اور اگر اولا تکمیل لازم ہو تو (چونکہ اس کی تراویح کی رکعتیں پوری نہیں ہوئیں) کیا وہ وتر جماعت سے پڑھ سکتا ہے یا اولا تراویح کی رہ جانے والی رکعتیں پوری کرے اور پھر وتر یا اس کے برخلاف بھی جائز ہے؟

  • سائل: محمد راشدمقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 24 اگست 2013ء

زمرہ: عبادات  |  نماز  |  نمازِ باجماعت کے احکام و مسائل  |  نماز تراویح

جواب:

سب سے پہلے فرض اور سنتیں ادا کریں، پھر تراویح میں شامل ہو جائیں، اس کے بعد وتر بھی باجماعت ادا کر سکتا ہیں۔ نماز تراویح کی باقی رکعتیں بعد میں پوری کریں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟