روزہ ترک کرنے کی وعید کیا ہے؟

سوال نمبر:269
روزہ ترک کرنے کی وعید کیا ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 24 جنوری 2011ء

زمرہ: عبادات  |  عبادات

جواب:

بغیر شرعی عذر کے روزہ نہ رکھنا یا رکھ کر توڑ دینا بہت بڑا گناہ ہے۔ اس کی قضا بہر صورت واجب ہے۔ قصدًا بلاوجہ روزہ رکھ کر توڑنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ بطورِ کفارہ ایک روزہ کے بدلے میں مسلسل دو ماہ یعنی 60 دن کے روزے رکھنا ضروری ہیں، جیسا کہ حدیث نبوی میں مذکور ہے۔ جبکہ بلا عذر شرعی رمضان شریف کا ایک روزہ اگر چھوڑ دیا جائے تو یہ بہت بڑے اجر سے محرومی کا باعث ہے جس کا ازالہ عمر بھر کے روزے بھی نہیں کرسکتے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

مِن أفطَرَ يَوْمًا من رَمَضانَ، من غَيْرِ رُخْصَة وَلا مَرضٍ لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صَوْمُ الدَّهْرِ کُلِّهِ، وَ إنْ صَامهُ.

’’جس نے بغیر شرعی اجازت اور بیماری کے رمضان شریف کا ایک روزہ بھی توڑا اسے عمر بھر کے روزے کفایت نہیں کر سکتے اگرچہ وہ عمر بھر روزے رکھے۔‘‘

 ترمذی، الجامع الصحيح، أبواب الصوم عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم، باب ماجاء في الإفطَارِ مُتَعَمِّدًا 2 : 93، رقم : 723

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟