سورۃ الملک کی تلاوت کا اہتمام صرف جمعرات کو جائز ہے؟

سوال نمبر:2663
سلام مسنون میرا سوال یہ ہے کہ جمعرات کو نماز عشاء کے بعد مسجد میں امام صاحب سورۃ الملک کی تلاوت کرتے ہیں اور باقی سب سنتے ہیں۔ کیا صرف شب جمعہ کو اس خصوصیت اور اہتمام کے ساتھ یہ جائز ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

  • سائل: پروفیسر عبدالسلاممقام: صوابی خیبر پختونخواہ
  • تاریخ اشاعت: 24 اگست 2013ء

زمرہ: تلاوت‌ قرآن‌ مجید

جواب:

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف سورتوں کے مختلف فضائل بیان فرمائے ہیں۔ اسی طرح سورۃ الملک کے بھی فضائل بیان فرمائے ہیں:

عن أبی هريرة عن النبی صلی الله عليه وآله وسلم قال سورة من القرآن ثلاثون آية تشفع لصاحبها حتی يغفرله تبارک الذی بيده الملک.

حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قرآن کی ایک سورت میں تیس آیتیں ہیں۔ وہ جس شخص کی بھی شفاعت کریں گی اس کی مغفرت کر دی جائے گی۔ وہ سورت (تبارک الذی بیدہ الملک) ہے۔

  1. احمد بن حنبل، المسند، 2 : 299، رقم : 7962، مؤسسۃ قرطبۃ مصر
  2. ابی داؤد، السنن، 2 : 57، رقم : 1400، دار الفکر
  3. ترمذی، السنن، 5 : 164، رقم : 2891، دار احیاء التراث العربی بیروت
  4. ابن ماجہ، السنن، 2 1244، رقم : 3786، دار الفکر بیروت
  5. نسائی، السنن الکبری، 6 : 496، رقم : 11612، دار الکتب العلمیۃ بیروت
  6. حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 1 : 753، رقم : 2075 دار الکتب العلمیۃ بیروت
  7. ابن حبان، الصحیح، 3 : 67، رقم : 787، مؤسسۃ الرسالۃ بیروت

مذکورہ بالا حدیث مبارکہ کے علاوہ بھی کئی روایات ہیں جن میں سورۃ الملک کے فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ لہذا اس سورہ مبارکہ کی تلاوت کرنے کے بہت سے فیوض وبرکات ہیں۔

باقی رہا مسئلہ صرف شب جمعہ کو ہی اس کی تلاوت کرنا اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ کہیں بھی ممانعت نہیں ہے کہ اس سورہ کو کوئی دن مخصوص کر کے نہ پڑھا جائے۔ اصل میں دن اپنی سہولت کے لیے مخصوص کیے جاتے ہیں تاکہ لوگ بھی ذہنی طور پر تیار رہیں۔ جب ہفتہ میں ایک بار ہی تلاوت کرنی ہے پھر ظاہر ہے کسی نہ کسی دن تو کی جائے گی۔ المختصر شب جمعہ کوسورہ الملک کی تلاوت کر سکتے ہیں، جائز ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟