Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا احرام باندھنے کے بعد نفل کسی بھی وقت ادا کیے جا سکتے ہیں؟

کیا احرام باندھنے کے بعد نفل کسی بھی وقت ادا کیے جا سکتے ہیں؟

موضوع: نفل  |  احرام   |  عبادات

سوال پوچھنے والے کا نام: حاجی محمد بوستان مرزا       مقام: سعودی عربیہ

سوال نمبر 2635:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ جو دو نفل احرام باندھنے کے بعد اور طواف کرنے کے بعد پڑھے جاتے ہیں، وہ کیا نماز فجر اور عصر کے بعد بھی پڑھے جا سکتے ہیں یا کہ دوسرے نوافل نماز کی طرح یہ بھی اس وقت نہیں‌ پڑھنے چاہیں؟ اگر ایک بندے نے فجر یا عصر کے بعد احرام باندھا یا طواف پورا کیا تو وہ یہ نفل کس وقت پڑھے؟‌ میں‌ نے سنا ہے کہ یہ واجب نفل ہوتے ہیں تو یہ کسی وقت بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔

جواب:

فجر اور عصر کے بعد نوافل پڑھنا مکروہ ہے۔ اس لیے اگر کوئی فجر یا عصر کے بعد احرام باندھے یا طواف پورا کرے تو نوافل بعد پڑھ لے، مکروں اوقات میں نہیں پڑھ سکتا ہے۔ نفل نفل ہی ہوتے ہیں واجب نفل نہیں ہوتے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-07-04


Your Comments