Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا سیدنا علی المرتضی کو رضی اللہ عنہ کہنا چاہیے؟

کیا سیدنا علی المرتضی کو رضی اللہ عنہ کہنا چاہیے؟

موضوع: متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: سید مزمل حسین نقوی       مقام: لاہور

سوال نمبر 2632:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ مولا علی علیہ السلام کو رضی اللہ کہنا چاہیے یا نہیں؟کیوں کہ اللہ تعالی تو پہلے سے ہی ان سے راضی تھا۔ اس لئے تو کائنات کو تخلیق کیا۔

جواب:

مولا علی کے نام کے ساتھ علیہ السلام، رضی اللہ عنہ یا کرم اللہ وجہہ کے الفاظ کہہ سکتے ہیں۔ اللہ تعالی تو باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر بھی پہلے ہی راضی ہے۔ اگر ان کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ استعمال کر سکتے ہیں تو علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ قرآن وحدیث میں کہیں یہ الفاظ کسی کے ساتھ خاص نہیں کیے گئے، نہ ہی رضی اللہ عنہ کہنے سے ان پر اللہ تعالی کے پہلے سے راضی ہونے کی نفی ہوتی ہے۔ جیسے ہم اللہ اکبر، سبحان اللہ، سبحان ربی العظیم اور سبحان ربی الاعلی کہتے ہیں حالانکہ یہ تمام صفات اللہ تعالی کی ذات پاک میں پہلے سے ہیں۔ لیکن ان الفاظ کے بولنے سے ہمیں فائدہ ہوتا ہے ورنہ ذات الہی کو ان الفاظ کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی اللہ تعالی راضی تو ہے ہم نہ بھی کہیں پھر بھی وہ ان الفاظ کے محتاج نہیں ہیں۔

مزید وضاحت کے لیے یہاں کلک کریں
کیا رضی اللہ تعالیٰ‌ عنہ کہنا صرف صحابہ کے لیے ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-07-04


Your Comments