سود سے توبہ پر سودی مال کے بارے میں‌ کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:2620
السلام علیکم و رحمتہ اللہ جناب عالی، میں نے کچھ سال پہلے بینک سے قرض لیا تھا تقریبا ایک لاکھ چالیس ہزار اور اس میں اپنے جمع کیے ہوئے پیسے ملا کر دو لاکھ بیس ہزار کا ایک پلاٹ خریدا تھا۔ اب میں‌سود سے توبہ کر چکا ہوں اور بینک کے پیسے بھی بھر چکا ہوں اور جتنے لئے تھے اس سے زیادہ سود کے ساتھ بھر چکا ہوں۔ لیکن کیا یہ پلاٹ توبہ کرنے کے بعد میرے لئے جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر جائز نہیں ہے تو پھر اسکا کیا کرنا چاہئے؟ برائے مہربانی قرآن و حدیث کا حوالہ بھی دیجئے گا۔ جزاک اللہ خیرا

  • سائل: عبداللہ وصیمقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 04 جولائی 2013ء

زمرہ: سود

جواب:

آپ نے بینک کو جتنا سود دیا ہے اتنی رقم غریبوں مسکینوں میں صدقہ کر دیں، امید ہے اللہ تعالی معاف فرمائے گا۔ یہ پلاٹ جائز ہے۔ یہ باتیں تو آپ کو پہلے پوچھنی چاہیں تھیں جو اب پوچھ رہے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟