Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا بینک سے قرض‌ لے کر گھر بنایا جا سکتا ہے؟

کیا بینک سے قرض‌ لے کر گھر بنایا جا سکتا ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  قرض   |  سود

سوال پوچھنے والے کا نام: وحید       مقام: کویت

سوال نمبر 2591:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ میں‌ کویت میں‌ ملازمت کرتا ہوں کیا میں بینک سے قرض لے کر پاکستان میں‌ گھر بنا سکتا ہوں، کیا یہ سود تو نہیں‌ ہو گا؟

جواب:

بینک والے اگر جتنے پیسے آپ کو بطور قرض دیں اتنے ہی واپس لیں تو پھر سود نہیں ہو گا۔ آپ قرض لے سکتے ہیں اس کو قرض حسنہ کہتے ہیں۔ اگر وہ آپ کو قرض اس شرط پر دیں کہ متعین مدت کے بعد آپ نے اس قرض پر اضافہ کر کے دینا ہے پھر سود ہو گا جو جائز نہیں ہے۔ مثلا وہ آپ کو 5 لاکھ روپے دیتے ہیں اور سال یا دو سال بعد 5 لاکھ ہی واپس لیتے ہیں پھر تو جائز ہے دوسری صورت اگر وہ کہیں کہ 5 لاکھ لے لو سال یا دو سال بعد 6 لاکھ واپس کر دینا یہ سود ہے جو جائز نہیں ہو گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-05-22


Your Comments