کیا بانجھ پن کا مریض شادی کر سکتا ہے؟

سوال نمبر:2524
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ ايک مرد جس کو ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ وہ اولاد پيدا کرنے کے قابل نہيں ہے اور اس کا علاج بھی نہيں ہو سکتا ہے۔ کیا ايسے شخص کو اسلام شادی کی اجازت ديتا ہے؟ اگر ديتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنا يہ نقص اپنی ہونے والی بيوی بتائے۔ کيا اس کہ خاندان کو بھی يہ بات بتانا لازم ہے؟ مہربانی فرما کر جلد از جلد جواب ديں۔

  • سائل: جواد خانمقام: کوئٹہ، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 23 اپریل 2013ء

زمرہ: نکاح

جواب:

لڑے یا لڑکی میں جو بھی نقص ہو شادی سے پہلے ایک دوسرے کو آگاہ کرنا ضروری ہے، کیونکہ شادی کے بعد پتہ چلنے پر بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ لڑکے یا لڑکی میں سے کسی کو اگر نقص ہوگا تو شادی کے بعد دوسرے کو اس کی سزا بھگتنا پڑے گی۔

عیب چاہے بانجھ پن کا ہو یا کوئی اور۔ نہیں بتائے گا تو دھوکہ بازی ہو گی۔ ہاں بتانے کے بعد بھی دوسرا فریق شادی کرنے پر تیار ہو تو جائز ہے، ورنہ جائز نہیں ہے، بلکہ ایک دوسرے کے حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟