Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - طلاق کی شرط کے بعد صلح ہو جانے پر کیا شرط ختم ہو جائیگی؟

طلاق کی شرط کے بعد صلح ہو جانے پر کیا شرط ختم ہو جائیگی؟

موضوع: طلاق

سوال پوچھنے والے کا نام: عبد اللہ       مقام: خیبر پختونخواہ

سوال نمبر 2508:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ زید اور بکر آپس میں ہم زُلف ہیں (یعنی زوجات آپس میں بہنیں ہیں)، کسی بات پر ناراضگی سے زید نے اپنی زوجہ سے کہا کہ اگر تم بکر کے گھر گئی تو تم پر تین طلاق۔ اب ان کے درمیان صلح ہو جانے کے بعد کیا کوئی صورت ممکن ہے کہ زید کی زوجہ ان کے گھر جا سکے؟ بکر کے بیٹے کی شادی ہے اگر بکر کے گھر والے یہ شادی کسی دوسرے گھر میں یا کسی شادی ہال میں کریں تو زید کی زوجہ اس میں شرکت کر سکتی ہے؟

جواب:

یہ زید نے شرط لگائی ہے قسم نہیں اٹھائی، اگر تو قسم ہوتی اس کو توڑ کر قسم کا کفارہ دینے سے مسئلہ حل ہو جاتا، لہذا زید کی بیوی جب بھی بکر کے گھر جائے گی اسے تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ ہاں اگر وہ کسی اور کے گھر شادی کریں یا شادی حال میں تو وہاں جا سکتی ہے کوئی مسئلہ نہیں ہے، پھر طلاق نہیں ہو گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-04-04


Your Comments